کاروبار اور معیشت

اسٹاک ایکسچینج:آخری لمحات کی خریداری نے مارکیٹ کو سہارا دے دیا، 100 انڈیکس 450 پوائنٹس اضافے کے ساتھ بند

  • پہلگام حملے کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے اسٹاک مارکیٹ کو دباؤ میں رکھا تھا۔
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کا بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس ہفتے کے آخری سیشن میں مثبت طور پر بند ہوا، جمعہ کو انٹرا ڈے ٹریڈنگ کے دوران کے ایس ای 100 انڈیکس 1300 سے زائد پوائنٹس کی کمی کے بعد بحال ہوگیا۔

پہلگام حملے کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں اضافے نے اسٹاک مارکیٹ کو دباؤ میں رکھا، جس کی وجہ سے انٹرا ڈے کے موقع پر کے ایس ای 100 انڈیکس دن کی کم ترین سطح 113,716.60 پوائنٹس تک گرگیا۔

تاہم کاروبار کے آخری گھنٹوں میں سرمایہ کاروں کی جانب سے خریداری کی بدولت مارکیٹ میں تیزی آئی اور100 انڈیکس مثبت زون میں داخل ہو گیا۔

کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای-100 انڈیکس 449.53 پوائنٹس یا 0.39 فیصد اضافے کے ساتھ 115,469.35 پوائنٹس پر بند ہوا۔

یاد رہے کہ جمعرات کو پی ایس ایکس میں فروخت کا شدید دباؤ دیکھا گیا جس کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں 2 ہزار 200 سے زائد پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

پاکستان اور بھارت کے تعلقات کئی برسوں میں اپنی نچلی ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں، جب نئی دہلی نے اسلام آباد پر ”سرحد پار دہشت گردی“ کی حمایت کا الزام عائد کیا، یہ الزام اس حملے کے بعد سامنے آیا جسے بھارتی غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے مسلم اکثریتی علاقے میں گزشتہ 25 برسوں کا بدترین شہریوں پر حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔ پاکستان نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔

جوہری طاقت کے حامل ان دونوں روایتی حریف ممالک نے ایک دوسرے کے خلاف جوابی اقدامات کا سلسلہ شروع کر دیا ہے، جن میں بھارت کی جانب سے ایک اہم دریائی پانی کی تقسیم کے معاہدے کو معطل کرنا اور پاکستان کی جانب سے اپنی فضائی حدود بھارتی ایئرلائنز کے لیے بند کرنا شامل ہے۔

اقوام متحدہ نے جمعہ کے روز بھارت اور پاکستان سے ”زیادہ سے زیادہ تحمل“ کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی، کیونکہ دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے خلاف سفارتی سطح پر جوابی اقدامات کیے ہیں۔

امریکہ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے علاقے پہلگام میں حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وہ کشمیر یا جموں کی حیثیت کے بارے میں کوئی موقف اختیار نہیں کر رہا۔

ادھر پاکستان سینیٹ نے جمعہ کے روز متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی، جس میں کہا گیا کہ بھارت کی جانب سے کسی بھی مہم جوئی کا منہ توڑ، فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔

عالمی سطح پر ایشیائی اسٹاک مارکیٹس نے مسلسل دوسرے ہفتے بہتری کی جانب گامزن رہی جبکہ امریکی ڈالر نے ایک ماہ سے زائد عرصے کے بعد پہلی بار ہفتہ وار بہتری حاصل کی کیونکہ سرمایہ کاروں نے چین کے حوالے سے وائٹ ہاؤس کے نرم رویے کا خیرمقدم کیا۔

امریکی ٹیکنالوجی کی بڑی اور گوگل کی پیرنٹ کمپنی الفابیٹ نے توقعات سے بہتر منافع ظاہر کیا اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر سرمایہ کاری کے اہداف کی توثیق کی، جس کے بعد اس کے شیئرز آفٹر آورز ٹریڈنگ میں تقریباً 5 فیصد بڑھ گئے، جس کا مثبت اثر دیگر ٹیکنالوجی کمپنیوں اور S&P 500 فیوچرز پر بھی پڑا، جو 0.5 فیصد اوپر گئے۔

وال اسٹریٹ میں گزشتہ رات سرمایہ کاروں نے مخلوط کارپوریٹ نتائج کو نظرانداز کیا اور ایس اینڈ پی 500 انڈیکس میں 2 فیصد اضافہ ہوا۔

ڈالر، جو حالیہ ہفتوں میں محصولات کے اعلانات، ان کی واپسی اور امریکی اثاثوں سے سرمایہ نکالنے کے باعث دباؤ کا شکار رہا، جمعہ کو ایشیا میں قدرے مستحکم نظر آیا اور یہ یورو کے مقابلے میں 1.1350 ڈالر اور جاپانی ین کے مقابلے میں 143 پر ٹریڈ کر رہا تھا۔

پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں آل شیئر انڈیکس پر کاروباری حجم کم ہو کر 471.07 ملین رہ گیا، جو گزشتہ سیشن میں 506.70 ملین تھا۔

تاہم، حصص کی مجموعی مالیت بڑھ کر 27.31 ارب روپے ہو گئی، جو پچھلے سیشن میں 24.49 ارب روپے تھی۔

جمعہ کے روز ورلڈ کال ٹیلی کام 22.80 ملین حصص کے ساتھ سب سے زیادہ کاروباری حجم رکھنے والی کمپنی رہی، اس کے بعد پاور سیمنٹ 21.96 ملین حصص کے ساتھ دوسری اور سوئی سدرن گیس 21.57 ملین حصص کے ساتھ تیسری نمایاں کمپنیاں رہیں۔

مجموعی طور پر 441 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا، جن میں سے 182 کے شیئرز کی قیمت میں اضافہ، 204 کے شیئرز میں کمی جبکہ 55 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتیں مستحکم رہیں۔