فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے صدر عاطف اکرم شیخ نے کہا ہے کہ سندھ ہائی ویز کی بندش کی وجہ سے شدید اقتصادی نقصانات کا سامنا ہے۔
انہوں نے صوبائی اور وفاقی حکومتوں سے فوری طور پر کارروائی کرنے کی اپیل کی تاکہ سڑکوں کی بندش کو ختم کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ سڑکوں کی بندش تیسرے روز بھی جاری ہے اور اس میں 12,000 سے زائد تجارتی گاڑیاں پھنس چکی ہیں جن میں 2,500 آئل ٹینکر بھی شامل ہیں، جو ملک میں تیل کی کمی کا باعث بن سکتے ہیں، پہلے ہی پنجاب اور خیبر پختونخوا کو راشن اور کھانے پینے کی فراہمی کو خطرہ لاحق ہوچکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسٹمز میں تاخیرہورہی ہے اور کراچی پورٹ پر 3 ہزار سے زائد ان ڈکلیئرڈ کنٹینرز موجود ہیں جس کی وجہ سے روزانہ ڈیمریج کے نقصانات دو ملین ڈالر سے زائد ہیں۔ ملکی سپلائی شدید متاثر ہوچکی ہے اور سندھ سے پنجاب اور خیبر پختونخوا جانے والی گندم اور سبزیوں کی ترسیل کا 40 فیصد حصہ متاثر ہے۔ برآمدات کے نقصانات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یورپی یونین اور خلیج کی مارکیٹس کو ٹیکسٹائل اور سمندری خوراک کی فراہمی میں 50 ملین ڈالر سے زائد کا نقصان ہو رہا ہے۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس طلب کرکے معاملات افہام و تفہیم سے حل کروائے جائیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025