مارکٹس

ڈالر کی بحالی کی رفتار سست ، تجارتی معاملات پر توجہ

ڈالر کی قدر میں جمعرات کو وقتی ٹھہراؤ آیا، جو اس وقت دیکھنے میں آیا جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فیڈرل ریزرو کے چیئرمین...
شائع اپ ڈیٹ

ڈالر کی قدر میں جمعرات کو وقتی ٹھہراؤ آیا، جو اس وقت دیکھنے میں آیا جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فیڈرل ریزرو کے چیئرمین جیروم پاول کو برطرف کرنے کی دھمکی سے پیچھے ہٹنے کا عندیہ دیا اور ان کی انتظامیہ نے چین پر محصولات کے معاملے میں نرم مؤقف اختیار کرنے کے آثار ظاہر کیے۔

منگل کو 140 ین سے نیچے جانے کے بعد ڈالر نے اہم چارٹ سپورٹ سے واپسی کی اور جمعرات کو آخری بار 143.25 ین پر ٹریڈ ہوتا دیکھا گیا۔

ڈالر کو مزید تقویت اس وقت ملی جب وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے اپنے جاپانی ہم منصب سے مذاکرات سے قبل کہا کہ امریکہ کے ذہن میں کسی مخصوص کرنسی کا ہدف نہیں ہے۔ بیسنٹ نے یہ بھی کہا کہ امریکہ اور چین کے درمیان موجودہ عملی تجارتی پابندی برقرار نہیں رکھی جا سکتی، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ امریکہ چین کی مصنوعات پر 100 فیصد سے زائد محصولات کم کرنے میں پہل نہیں کرے گا۔

ڈالر یورو کے مقابلے میں ساڑھے 3 سال کی کم ترین سطح 1.1572 ڈالر سے بحال ہوا،تاہم ایشیا میں صبح کے دوران تھوڑی فروخت دیکھنے کو ملی جس کے بعد یہ تقریباً 1.1338 ڈالر پر مستحکم ہوگیا۔

آئی این جی کرنسی اسٹریٹجسٹ فرانسسکو پیسول نے اپنے کلائنٹس کو بھیجے گئے ایک نوٹ میں کہا کہ اب یہ واضح ہو چکا ہے کہ کوئی اور کرنسی اتنی حساس نہیں ہے تجارتی خبروں کے حوالے سے جتنی کہ ڈالر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم اب بھی سمجھتے ہیں کہ مستقبل قریب میں خطرات کا توازن امریکی ڈالر کے لیے منفی اثرات کی جانب مائل رہے گا لیکن ہمیں حالیہ دنوں میں جو ایک طرفہ ڈالر بیچنے کا رجحان دیکھا گیا، اس کی دوبارہ ہونے کی توقع نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود، یورو / یو ایس ڈی زیادہ تر امریکی ڈالر کی حرکات پر منحصر ہے اور اگر فیڈ کی آزادی کے بارے میں خدشات ایک بار پھر مرکزی حیثیت اختیار کرتے ہیں تو 1.15 ڈالر سے اوپر ایک اور قدم اٹھانا ممکن ہے۔

آسٹریلین اور نیوزی لینڈ ڈالر بھی حالیہ بلند ترین سطح سے کچھ نیچے آئے ہیں تاہم یہ کمی اتنی زیادہ نہیں تھی۔

رواں ہفتے 0.64 ڈالر کی حد عبور کرنے کے بعد آسٹریلوی ڈالر 0.6361 ڈالر پر پہنچ گیا جبکہ کامن ویلتھ بینک کےاسٹریٹجسٹ جو کاپرسو نے کہا کہ عالمی معیشت کی ترقی کے حوالے سے تشویش برقرار رہنے کے باعث یہ اپنے 50 دن کی موونگ ایوریج 0.6286 ڈالر کے قریب مزاحمت کا سامنا کر سکتا ہے۔

نیوزی لینڈ ڈالر 0.5949 ڈالر پر برقرار رہا۔

اسٹرلنگ اور سوئس فرانک میں تیزی سے کمی کے بعد استحکام رہا ، جس سے اسٹرلنگ 1.3263 ڈالر اور سوئس 0.8290 ڈالر فی ڈالر پر رہا۔

ابتدائی کاروبار کے دوران چین کا یوآن 7.29 روپے فی ڈالر کے قریب مستحکم رہا۔