پاکستان کا اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم 2025 کے آغاز میں غیر یقینی صورتحال کے بادلوں تلے داخل ہوا، تاہم بہتری کی کچھ نشانیاں بھی ظاہر ہونا شروع ہو چکی ہیں۔ انویسٹ ٹو انویٹ (آئی ٹو آئی) کی پہلی سہ ماہی 2025 کی ڈیل فلو رپورٹ کے مطابق عوامی سطح پر افشاء کی گئی صرف تین ڈیلز کے ذریعے محض 196,000 ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی۔ اگرچہ یہ رقم نہایت معمولی ہے، لیکن یہ 2024 کی پہلی سہ ماہی میں سرمایہ کاری کی مکمل بندش کے مقابلے میں بہتری کی علامت ہے۔

گزشتہ سال اسٹارٹ اپ انویسٹمنٹ کے لحاظ سے خاصا سخت رہا، کیونکہ 2022 کے مقابلے میں مجموعی فنڈنگ میں 77 فیصد کمی آئی اور صرف 75.6 ملین ڈالر 37 افشاء شدہ ڈیلز کے ذریعے حاصل کیے گئے۔ عالمی مالیاتی بحران اور پاکستان کی اندرونی معاشی بدحالی — بے قابو مہنگائی، غیر مستحکم روپیہ، اور مسلسل سیاسی عدم استحکام — نے اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم کو شدید متاثر کیا، خاص طور پر ابتدائی مرحلے پر جہاں پری سیڈ اور سیڈ راؤنڈز تقریباً غائب ہو گئے۔ اس صورتحال کے جواب میں، کئی بانیوں نے اپنی ٹیموں کو چھوٹا کیا، فنڈ ریزنگ روک دی یا کاروباری ماڈلز میں تبدیلی کی — ایک عمل جو اب بھی جاری ہے۔

علاقائی ہمسایہ ممالک کے مقابلے میں پاکستان کی فنڈنگ صورتحال خاصی پسماندہ نظر آتی ہے۔ جہاں پاکستانی اسٹارٹ اپس نے 2025 کی پہلی سہ ماہی میں 200,000 ڈالر سے بھی کم سرمایہ کاری حاصل کی، وہیں بھارت نے اسی مدت میں 3.1 ارب ڈالر اکٹھا کیے۔ 2015 سے لے کر اب تک پاکستان نے مجموعی طور پر ایک ارب ڈالر سے بھی کم وینچر کیپیٹل حاصل کیا ہے، جب کہ بھارت نے 2014 سے اب تک 161 ارب ڈالر سے زائد کا سرمایہ حاصل کیا ہے۔

تاہم، ایک ممکنہ بحالی کی امید نظر آ رہی ہے۔ 2025 کی پہلی سہ ماہی میں سرمایہ کاروں کا رویہ محتاط رہا کیونکہ ملک آئی ایم ایف کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (ای ایف ایف) سے متعلق وضاحت کا منتظر تھا۔ بالآخر ایک اہم پیش رفت سامنے آئی جب اسٹاف لیول معاہدے کے ذریعے ایک ارب ڈالر حاصل کیے گئے، جس کے بعد 1.3 ارب ڈالر کی ماحولیاتی استحکام کی فنڈنگ کا دوسرا معاہدہ بھی طے پا گیا۔

یہ پیش رفت اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی پالیسی ریٹ کو 12 فیصد تک کم کرنے کا فیصلہ امید کی کرن پیدا کرتے ہیں۔ اگرچہ موجودہ شرح سود ابھی بھی ہائی رسک سرمایہ کاری میں اضافے کے لیے زیادہ ہے، لیکن آئندہ مزید کمی کی توقعات ایسی سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کر سکتی ہیں۔

اگرچہ 2025 پاکستانی اسٹارٹ اپس کے لیے فنڈ ریزنگ کے لحاظ سے ایک چیلنجنگ سال بنا ہوا ہے، لیکن نئے فنڈز، شمولیت پر مبنی پروگرامز، فِن ٹیک انوویشن اور بین الاقوامی توسیع جیسے عوامل کے ذریعے کچھ شعبوں میں نمو دیکھی جا رہی ہے — جو کہ ایک مضبوط اور حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے والا کاروباری ماحول ظاہر کرتے ہیں۔ پاکستان کے اسٹارٹ اپس نے موجودہ مالیاتی دباو کے باعث متبادل فنڈنگ ماڈلز کی طرف رجوع کیا ہے۔

آئی ٹو آئی کی تازہ ترین سہ ماہی اپڈیٹ کے مطابق، کچھ اسٹارٹ اپس پائیدار ترقی کے اہداف سے ہم آہنگ امپیکٹ انویسٹمنٹ وہیکلز کا سہارا لے رہے ہیں، جب کہ دیگر فِن ٹیک اور لاجسٹکس کمپنیوں کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری یا متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب جیسے خطوں میں توسیع پر غور کر رہے ہیں۔ تاہم، سرمایہ حاصل کرنے کی اس دوڑ میں احتیاط کا دامن نہیں چھوڑا جا سکتا۔ آئی ٹو آئی نے خبردار کیا ہے کہ صرف بقاء کے لیے غیر موزوں شرائط پر سرمایہ حاصل کرنا طویل المدتی پائیداری کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ کئی اسٹارٹ اپس نے اسٹریٹجک ”ڈاؤن راؤنڈز“ کو اختیار کیا ہے — یعنی اپنی کمپنی کی ویلیوایشن کو کم کرتے ہوئے فنڈنگ حاصل کی تاکہ آپریشنز کو متاثر کیے بغیر اپنی سرگرمی جاری رکھ سکیں۔ اگرچہ یہ عمل کمپنی کی مارکیٹ ویلیو کو گھٹا دیتا ہے، لیکن یہ مستقبل میں بقاء اور ترقی کی حکمت عملی کا ایک اہم ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔

ان تمام مشکلات کے درمیان، آئی ٹو آئی کی رپورٹ میں کچھ مثبت پیش رفت کی نشان دہی بھی کی گئی، خاص طور پر صنفی تنوع کے حوالے سے۔ 2025 کی پہلی سہ ماہی میں فنڈ حاصل کرنے والے اسٹارٹ اپس میں مرد و خواتین کا تناسب 2:1 رہا، جو پچھلی سہ ماہیوں کی نسبت بہتر ہے — جو کہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں خواتین کاروباری شخصیات کے لیے آہستہ آہستہ بدلتی ہوئی سوچ کی علامت ہے۔

اگرچہ پاکستان کو اب بھی متعدد مسائل کا سامنا ہے — جیسے کمزور ملکی سرمایہ کاری مارکیٹس، ریگولیٹری رکاوٹیں، اور معاشی کمزوری — لیکن مجموعی طور پر ایک محتاط خوش امیدی کا رجحان پایا جاتا ہے کہ 2025 کے آخر تک حالات میں بہتری آئے گی۔ بہتر ہوتے معاشی اشاریے، شرح سود میں کمی، اور علاقائی سرمایہ کاروں کی بڑھتی دلچسپی اس سمت میں مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں۔

تاہم، اس صلاحیت کو مکمل طور پر استعمال کرنے کے لیے پاکستان کو فوری طور پر ریگولیٹری اصلاحات، مقامی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کی ترغیبات، اور بین الاقوامی شراکت داریوں کی تشکیل کو ترجیح دینی ہو گی۔ آئی ٹو آئی کے مطابق، اگرچہ آگے کا راستہ کٹھن ہے، لیکن اگر پاکستان کے اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم کو کسی ایک لفظ میں بیان کیا جائے تو وہ ”لچک“ ہے — یہ اسٹارٹ اپس پہلے بھی مشکل حالات سے گزر چکے ہیں اور ایک بار پھر خود کو بدلنے کے لیے تیار ہیں۔