سندھ میں قومی شاہراہ پر ایک ہفتے سے جاری دھرنے کے باعث ملک بھر میں تجارتی نقل و حمل اور سپلائی چین مفلوج ہونے سے پاکستان کی معاشی سرگرمیاں معطل ہوکر رہ گئی ہیں۔ یہ بات بزنس ریکارڈر نے بدھ کو اپنی ایک رپورٹ میں بتائی ہے۔
سندھ میں وکلاء تنظیموں کی جانب سے قوم پرست گروپوں اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کی حمایت سے بڑے پیمانے پر احتجاج کے دوران نیشنل ہائی وے کو بند کردیا گیا تھا۔ احتجاج کا مرکزی مسئلہ وفاقی حکومت کے دریائے سندھ سے چھ نئی نہروں کی تعمیر کے متنازع منصوبے کی مخالفت تھا۔
اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی)، یونائیٹڈ بزنس گروپ (یو بی جی) اور کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) سمیت تجارتی تنظیموں نے حکومتی حکام سے فوری مداخلت اور معاشی حالات کو معمول پر لانے کی اپیل کی ہے۔
سکھر اور خیرپور کے قریب عوامی دھرنے کی وجہ سے 3500 سے زائد گاڑیاں پھنس گئی ہیں جن میں سے بیشتر برآمدی سامان، ایندھن کے ٹینکروں اور خراب ہونے والی اشیا سے بھری ہوئی ہیں۔
کاروباری اداروں نے بڑھتے ہوئے نقصانات کی اطلاع دی، کراچی کی بندرگاہوں سے ملک کے بالائی علاقوں کو سپلائی لائنوں میں خلل پڑا۔ دریں اثنا برآمد کنندگان نے ڈیڈ لائن سے محروم ہونے اور عالمی ساکھ کو نقصان پہنچنے کے بارے میں متنبہ کیا ہے۔
بڑے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی نمائندگی کرنے والے او آئی سی سی آئی نے خبردار کیا ہے کہ ’شدید مالی نقصانات‘ کا سامنا ہے اور ان کا مزید کہنا ہے کہ اس تعطل نے ’ضروری سپلائی چین روابط کو معطل کر دیا ہے‘۔
تاجر تنظمیوں نے سندھ اور وفاقی حکام پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر اقدامات کریں اور اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کے معاشی استحکام اور برآمدی مسابقت کے تحفظ کے لیے بلا تعطل تجارت انتہائی اہم ہے۔
دریں اثنا یو بی جی کے ریجنل چیئرمین خالد تواب نے وزیراعظم شہباز شریف سے فوری مداخلت کی براہ راست اپیل کی ہے۔ 800 سے زائد آئل ٹینکروں کی عدم موجودگی کا حوالہ دیتے ہوئے، تواب نے متنبہ کیا کہ ایندھن کی قلت جلد ہی شمالی علاقوں کو متاثر کر سکتی ہے۔
انہوں نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ اشیاء کی محفوظ ترسیل کو یقینی بنائیں، اگر یہ بحران فوری طور پر حل نہیں کیا گیا تو یہ بحران ہماری برآمدات، درآمدات اور داخلی لاجسٹکس کو بری طرح متاثر کرے گا۔
کے سی سی آئی کے صدر جاوید بلوانی نے بھی اسی طرح کے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ طویل سڑکوں کی ناکہ بندی سے کاروباری برادری کو ”زبردست نقصان“ ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ قومی سپلائی چین ”مفلوج“ ہے اور روہڑی اور علی واہن سمیت اہم چوک پوائنٹس پر ٹرک پھنس گئے ہیں۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ احتجاجی رہنماؤں کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کرے اور معاشی سرگرمیوں کی بحالی کو ترجیح دے۔