وزیر توانائی نے غفلت، منصوبوں میں بلا جواز تاخیر پر این ٹی ڈی سی کے 7 عہدیدار برطرف کردیے
پاور ڈویژن کی جانب سے بدھ کو جاری کردہ بیان کے مطابق وزیر توانائی نے نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی) کے سات سینئر افسران کو فوری طور پر برطرف کرنے کا حکم دیا ہے۔ برطرف کیے گئے افسران میں ایک ڈپٹی مینجنگ ڈائریکٹر، دو جنرل منیجرز، ایک چیف فنانشل آفیسر اور تین چیف انجینئرز شامل ہیں۔ ان پر جاری منصوبوں میں ”غفلت اور بلا جواز تاخیر“ کا الزام ہے۔
یہ فیصلہ کارکردگی کے جائزے سے متعلق اجلاس کے بعد کیا گیا جس میں وزیر توانائی نے سرکاری پاور یوٹیلیٹی کی کارکردگی میں انتہائی نقصانات پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
سردار اویس لغاری نے کہا کہ این ٹی ڈی سی کے بورڈ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کو کسی صورت برداشت نہ کریں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ منصوبے پر بروقت عملدرآمد نہ ہونے سے قوم کو اربوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔
وزیر نے اس سے قبل کارکردگی کے جائزہ اجلاس میں یہ جاننے کے لیے انکوائری کا حکم دیا تھا کہ اہم ٹرانسمیشن اور ڈسپیچ منصوبے مقررہ وقت پر مکمل کیوں نہیں ہو سکے۔
بعد ازاں این ٹی ڈی سی بورڈ کے اجلاس میں منصوبہ بندی اور عمل درآمد میں نظامی خامیوں کی نشاندہی کی گئی۔
تحقیقات سے انکشاف ہوا کہ پلاننگ بندی وِنگ، جس کی قیادت اب برطرف کیے گئے ڈپٹی مینیجنگ ڈائریکٹر، دو جنرل منیجرز اور چیف فنانشل آفیسر کر رہے تھے، بارہا منصوبہ جات کی ڈیڈ لائنز پوری کرنے میں ناکام رہا۔
بورڈ نے ان افسران کے خلاف فوری طور پر آرڈر آف پوسٹنگ کے اویٹنگ (او ایس ڈی)کے احکامات جاری کیے جبکہ تین چیف انجینئرز کو ”فرائض میں غفلت“ کے باعث ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا۔
مزید برآں این ٹی ڈی سی کے منیجنگ ڈائریکٹر کو منیجرز اور ڈپٹی منیجرز سمیت دیگر لاپرواہ عملے کے خلاف تادیبی کارروائی کے لیے دو ہفتے کی مہلت دی گئی ہے۔
بورڈ نے ادارہ جاتی امور کو بہتر بنانے اور منصوبوں پر عمل درآمد میں موجود دیرینہ خامیوں کو دور کرنے کے لیے ایک نئی حکمت عملی کی بھی منظوری دی۔
وزیر توانائی نے کہا کہ ان منصوبوں میں ہر تاخیر براہ راست پاکستان کی معیشت کو نقصان پہنچاتی ہے۔ انہوں نے غفلت کے مرتکب افسران کو جوابدہ ٹھہرانے کے عزم پر زور دیا۔
حکومت کی جانب سے کیا گیا یہ کریک ڈاؤن توانائی کے شعبے کو مؤثر اور شفاف بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے، جو حالیہ دنوں میں بنیادی ڈھانچے میں رکاوٹوں اور تاخیر پر بڑھتی ہوئی تنقید کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔