پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت (ڈی ای) نے گزشتہ دو دہائیوں میں نمایاں ترقی کی ہے۔ سال 2000 میں اس کا حجم تقریباً 100 ملین امریکی ڈالر تھا، جو 2010 تک بڑھ کر 1 سے 2 ارب ڈالر تک پہنچ گیا اور 2023 میں اس کا تخمینہ 12 سے 15 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔
تخمینے بتاتے ہیں کہ یہ حجم 2030 تک 60 سے 75 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے اور 2035 تک یہ ممکنہ طور پر 80 سے 150 ارب ڈالر تک جا سکتا ہے۔
2000 کی دہائی کے آغاز میں، ڈیجیٹل معیشت کا جی ڈی پی میں حصہ نہ ہونے کے برابر تھا—0.1 فیصد سے بھی کم۔ 2010 تک یہ حصہ بڑھ کر 0.5 فیصد ہو گیا، اور 2020 تک یہ 1 سے 1.5 فیصد تک پہنچ گیا۔ 2023 میں یہ حصہ 1.5 فیصد سے 3 فیصد کے درمیان تھا۔ مستقبل کی پیش گوئیوں کے مطابق، یہ حصہ 2025 تک 3 سے 5 فیصد، 2030 تک 5 سے 7 فیصد، اور ممکنہ طور پر 2035 تک 15 سے 25 فیصد تک پہنچ سکتا ہے۔
گزشتہ 20 برسوں کے دوران، اس شعبے نے 15 سے 20 فیصد کی قابلِ ذکر سالانہ مرکب شرحِ نمو (CAGR) کا مظاہرہ کیا ہے، جس کی بنیادی وجہ ملک کے 14 کروڑ انٹرنیٹ صارفین ہیں—جن میں سے 64 فیصد کی عمر 30 سال سے کم ہے—اور 85 فیصد موبائل کنیکٹیویٹی کی شرح ہے۔ پاکستان اس وقت فری لانسنگ کے شعبے میں دنیا بھر میں چوتھے نمبر پر ہے، اور ڈیجیٹل طور پر باخبر نوجوان آبادی مستقبل کی ڈیجیٹل ترقی کا اصل محرک سمجھی جاتی ہے۔
اس ترقی کے اہم عوامل میں انٹرنیٹ کے بڑھتے ہوئے استعمال، فِن ٹیک (Fintech) میں جدت، ای کامرس کا تیز رفتار پھیلاؤ، آئی ٹی برآمدات میں اضافہ، اور حکومت کی معاون پالیسیوں کا کردار شامل ہے۔
2024 تک، پاکستان میں ٹیلی کام صارفین کی تعداد 195 ملین تک پہنچ چکی تھی، جب کہ براڈبینڈ کی رسائی 57 فیصد ہو چکی تھی۔ اس وقت انٹرنیٹ کی رسائی 35 سے 40 فیصد کے درمیان ہے، اور اندازہ ہے کہ یہ 2030 تک 60 سے 65 فیصد تک بڑھ جائے گی۔
ای کامرس کا شعبہ 25 سے 30 فیصد کی سالانہ مرکب شرحِ نمو (CAGR) کے ساتھ ترقی کر رہا ہے، جس کا مارکیٹ سائز 2023 میں 6 ارب امریکی ڈالر تھا، اور توقع ہے کہ یہ 2027 تک 10 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ جائے گا۔ یہ ترقی 5 لاکھ سے زائد چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں (SMEs) کو ڈیجیٹل صارفین سے جوڑ رہی ہے۔ دوسری جانب، آئی ٹی اور سافٹ ویئر کا شعبہ بھی مسلسل 15 سے 20 فیصد کی شرح سے ترقی کر رہا ہے۔
فِن ٹیک (Fintech) کا شعبہ بھی تیزی سے وسعت اختیار کر رہا ہے، جس کی بنیاد اسمارٹ فونز کے وسیع پیمانے پر استعمال پر ہے۔ ڈیجیٹل ادائیگیوں کی مالیت 10 کھرب روپے تک پہنچ چکی ہے، اور یہ سالانہ 30 فیصد کی شرح سے بڑھ رہی ہے۔ آئی ٹی اور سافٹ ویئر کی برآمدات 2020 میں 1.4 ارب امریکی ڈالر سے بڑھ کر مالی سال 2023 میں 3.1 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، اور توقع ہے کہ یہ 2025 تک 5 ارب ڈالر اور 2030 تک 15 ارب ڈالر تک جا پہنچیں گی۔
زراعت، جو روایتی طور پر ڈیجیٹائزیشن سے محروم شعبہ رہا ہے، ایک انقلابی تبدیلی کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اگر اس میں IoT، ڈرونز، اور مصنوعی ذہانت پر مبنی تجزیاتی ٹیکنالوجیز جیسے پریسیژن فارمنگ حل شامل کیے جائیں، تو پیداوار میں 20 سے 30 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے، جبکہ اسمارٹ ایریگیشن سسٹمز کے ذریعے پانی کے ضیاع میں 40 فیصد تک کمی لائی جا سکتی ہے۔
بلاک چین سے چلنے والے سپلائی چین نظام فصل کی کٹائی کے بعد ہونے والے نقصانات کو آدھا کر سکتے ہیں—جو اس وقت تقریباً 30 فیصد کے لگ بھگ ہیں—اور زرعی تجارت میں شفافیت کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز جیسے ای-منڈیاں اور موبائل مشاورتی خدمات کسانوں کی آمدنی میں 15 سے 20 فیصد تک اضافہ کر سکتی ہیں۔ مصنوعی ذہانت پر مبنی موسم کی پیش گوئی اور فصلوں کی انشورنس خاص طور پر چھوٹے کاشتکاروں کے لیے خطرات کو کم کر سکتی ہے۔ ان جدید ٹیکنالوجیز کے ذریعے زرعی برآمدات 2030 تک تین گنا بڑھ کر 15 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں، اور 2035 تک جی ڈی پی میں 150 ارب امریکی ڈالر سے زائد کا حصہ ڈال سکتی ہیں۔
پاکستان کے صنعتی شعبے کی ڈیجیٹائزیشن—جس میں اسمارٹ مینوفیکچرنگ، آٹومیشن، اور ڈیجیٹل لاجسٹکس شامل ہیں—سے کارکردگی میں 15 سے 25 فیصد تک بہتری آ سکتی ہے، فضلہ کم ہو سکتا ہے، اور پیداواری لاگت میں کمی آ سکتی ہے۔ انڈسٹری 4.0 ٹیکنالوجیز اور ڈیجیٹل سپلائی چین نظاموں کے نفاذ سے ایس ایم ایز کی ترقی کو سہارا ملے گا اور یہ شعبہ جی ڈی پی میں 120 سے 150 ارب امریکی ڈالر کا حصہ ڈال سکتا ہے، جبکہ 2035 تک پانچ ملین ٹیکنالوجی پر مبنی نئی ملازمتیں بھی پیدا ہو سکتی ہیں۔
سروس سیکٹر، جو ڈیجیٹل تبدیلی کی سب سے زیادہ صلاحیت رکھتا ہے، پانچ ملین ہنر مند ملازمتیں پیدا کر سکتا ہے۔ ای کامرس، فِن ٹیک، فری لانسنگ، اور ڈیجیٹل بینکنگ میں ڈیجیٹائزیشن کے فروغ کے ساتھ ساتھ تعلیم، صحت، اور سیاحت کے شعبوں میں اصلاحات، معیشت کی پیداوار میں نمایاں اضافہ کر سکتی ہیں۔ مضبوط 5G انفرااسٹرکچر کا قیام اور سائبر سیکیورٹی کو عوامی و نجی شراکت داری کے ذریعے بہتر بنانا اس شعبے کی متوقع مالیت—2035 تک 200 سے 250 ارب امریکی ڈالر—کو حاصل کرنے کے لیے نہایت ضروری ہے۔
پاکستان کی غیر رسمی معیشت، جو کہ مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کا اندازاً 35 سے 50 فیصد بنتی ہے (یعنی تقریباً 150 سے 180 ارب امریکی ڈالر)، نقد لین دین پر انحصار کی وجہ سے قومی آمدنی میں معمولی حصہ ڈالتی ہے۔
موبائل بینکنگ، ڈیجیٹل والیٹس، اور مائیکرو فنانس تک رسائی کو وسعت دے کر اس شعبے کو باضابطہ معیشت کا حصہ بنایا جا سکتا ہے، جس سے چھوٹے کاروباروں، فری لانسرز اور خودروزگار افراد کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ صرف غیر رسمی شعبے کی ڈیجیٹائزیشن کے ذریعے 2035 تک جی ڈی پی میں 150 سے 180 ارب امریکی ڈالر کا اضافہ ممکن ہے۔
دریں اثناء شیڈو(غیر قانونی) معیشت، جو مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کا اندازاً 5 سے 15 فیصد بنتی ہے، ہر سال 15 سے 45 ارب امریکی ڈالر کے نقصانات کا باعث بنتی ہے۔ غیر رسمی ذرائع سے آنے والی رقوم (ریمیٹنسز) میں کمی اور ڈیجیٹل بینکنگ کی طرف منتقلی سالانہ 5 سے 7 ارب ڈالر کے اضافی زرمبادلہ کو محفوظ بنا سکتی ہے۔ اس شعبے کی ڈیجیٹائزیشن سالانہ مزید 15 سے 45 ارب ڈالر کا حصہ ڈال سکتی ہے، جس کے نتیجے میں غیر رسمی اور غیر قانونی معیشتوں کی ڈیجیٹائزیشن سے مجموعی طور پر 2035 تک سالانہ 165 سے 225 ارب امریکی ڈالر کا ممکنہ فائدہ حاصل ہو سکتا ہے۔
ایک اور اہم پہلو وہ لاگتیں ہیں جو نظام کی عدم کارکردگی یا ”سلج کاسٹس“ کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں، جو جی ڈی پی کے 39 فیصد (تقریباً 132 ارب امریکی ڈالر) کے برابر ہیں۔ ڈیجیٹائزیشن کے ذریعے وقت اور مالی اخراجات میں بالترتیب 40 فیصد اور 34 فیصد سے زائد کمی لائی جا سکتی ہے۔ کاغذی کارروائی کو ختم کرنے سے مواقع کے ضائع ہونے کی لاگت میں بھی مزید کمی ممکن ہے۔
اگر پاکستان اپنی زراعت، صنعت، خدمات، غیر رسمی اور غیر قانونی معیشتوں کی مکمل ڈیجیٹائزیشن کرے، اور نظامی ناکارکردگیوں کو دور کرے، تو 2035 تک اس کا مجموعی جی ڈی پی ایک کھرب (1 ٹریلین) امریکی ڈالر سے تجاوز کر سکتا ہے۔ یہ تبدیلی پاکستان کو دنیا کی 25 بڑی معیشتوں میں شامل کر سکتی ہے، 2 کروڑ ہائی ویلیو ملازمتیں پیدا کر سکتی ہے، اور غربت میں 30 فیصد تک کمی لا سکتی ہے۔
تاہم کئی چیلنجز اب بھی درپیش ہیں۔ ملک میں کنیکٹیویٹی غیر مستحکم ہے، فائبر آپٹک انفراسٹرکچر محدود ہے، اور 60 فیصد سے زائد آبادی دیہی علاقوں میں رہتی ہے۔ صرف 35 فیصد دیہی علاقوں میں قابلِ اعتماد انٹرنیٹ دستیاب ہے، جب کہ شہری علاقوں میں یہ شرح 65 فیصد ہے۔ خواتین کی ڈیجیٹل شمولیت مردوں کے مقابلے میں 52 فیصد کم ہے، اور سائبر سیکیورٹی کے لحاظ سے پاکستان عالمی سطح پر 79ویں نمبر پر ہے۔
تحقیق و ترقی (آر اینڈ ڈی) میں سرمایہ کاری جی ڈی پی کا محض 0.3 فیصد ہے جو کہ علاقائی ممالک جیسے بھارت (0.7 فیصد) اور چین (2.4 فیصد) سے خاصی کم ہے۔ اس کے علاوہ، انٹرنیٹ بندشوں کے باعث معیشت کو روزانہ 1.3 ارب روپے سے زائد کا نقصان ہوتا ہے، جو سالانہ تقریباً جی ڈی پی کا 1 فیصد بنتا ہے۔
اگر ان رکاوٹوں پر قابو پا لیا جائے تو پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت مزید پائیدار اور ہمہ گیر ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتی ہے۔
دیہی اور شہری علاقوں کے درمیان ڈیجیٹل خلا کو پُر کرنے کے لیے پاکستان کو انفرااسٹرکچر کے خلاء کو ختم کرنے،انٹرنیٹ تک رسائی کو بڑھانے، براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری(ایف ڈی آئی) کو راغب کرنے، بیوروکریسی کی غیر ضروری رکاوٹوں کے خاتمے اور جامع ڈیجیٹل خواندگی پروگرامز کے آغاز پر مبنی اقدامات کرنے ہوں گے۔
فائیو جی کی تنصیب میں تیزی لانے سے ای کامرس، فن ٹیک، ایس ایم ایز، فری لانسنگ اور مقامی ٹیک مینوفیکچرنگ کی کارکردگی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ آر اینڈ ڈی اخراجات کو بڑھانے سے جدت طرازی اور تکنیکی ترقی کو فروغ مل سکتا ہے۔
اگر ان کوششوں کو کامیابی کے ساتھ نافذ کیا جاتا ہے تو ملک 2035 تک ایک ٹریلین امریکی ڈالر سے زیادہ مالیت کی ڈیجیٹل معیشت کو کھول دے گا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025