پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) اور پاکستان بزنس کونسل (پی بی سی) دبئی نے ایک تاریخی مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے جس کا مقصد کراچی اور دبئی کی کاروباری برادری کے درمیان اسٹریٹجک روابط قائم کرکے تجارت، سرمایہ کاری اور معاشی تعاون میں مضبوط دوطرفہ تعاون کو فروغ دینا ہے۔

ایم او یو پر صدر کے سی سی آئی جاوید بلوانی اورچیئرمین پی بی سی دبئی شبیر مرچنٹ نے کے سی سی آئی میں منعقدہ ایک اعلی سطح اجلاس کے دوران دستخط کیے۔

معاہدے پر دستخط کی تقریب میں کے سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ضیاء العارفین، نائب صدر فیصل خلیل احمد، ایم او یوز پر عمل درآمد کے لیے خصوصی کمیٹی کے چیئرمین جنید اسماعیل ماکڈا، ایگزیکٹو ایڈوائزر پی بی سی دبئی مصطفیٰ ہیمانی، کے سی سی آئی کے سابق نائب صدر حارث اگر اور منیجنگ کمیٹی کے اراکین نے شرکت کی۔

صدرکے سی سی آئی جاوید بلوانی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دوطرفہ اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ایم او یو کی اہم خصوصیات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ یہ شراکت داری ایک اسٹریٹجک اقدام ہے جس میں تجارتی وفود کے تبادلے،بین الاقوامی نمائشوں اورٹریڈ فیئرز میں مشترکہ شرکت، بزنس سیمینارز، ورکشاپس اور نیٹ ورکنگ فورمز کے انعقاد جیسے عملی اقدامات شامل ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ دونوں آگنائزیشنز باہمی طور پر تجارتی پالیسیوں، ریگولیٹری فریم ورک اور کاروباری طریقہ کار سے متعلق بروقت اور مفید معلومات کا تبادلہ کرینگے۔

معاہدے میں بزنس ویزاکےحصول میں سہولت،تجارتی وفود کولاجسٹک سپورٹ فراہم کرنے اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے بزنس ٹو بزنس روابط کو فروغ دینے پر بھی اتفاق کیاگیا۔

جاوید بلوانی نے پی بی سی دبئی کی جانب سے بزنس ٹو بزنس میچ میکنگ کو فروغ دینے کے لیے ایک مخصوص ویب سائٹ اور موبائل ایپلیکیشن متعارف کرانے کی کاوش کو بھی سراہا جس سے کاروباری اداروں کو آسانی سے ممکنہ شراکت دار تلاش کرنے میں مدد ملے گی۔ اس طرح کے ٹولز دونوں مارکیٹوں کے کاروباری افراد اور سرمایہ کاروں کے درمیان روابط بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔

شبیر مرچنٹ نے اس معاہدے کی دونوں ممالک کے کاروباری حلقوں کے لیے اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایم او یو نہ صرف کراچی اور دبئی کے درمیان ایک پُل کا کام کرے گا بلکہ پائیدار معاشی ترقی کیلئےایک مضبوط پلیٹ فارم بھی فراہم کرے گا نیز یہ کاروباری روابط کو فروغ، رکاوٹوں کو دور کرنے اور دونوں جانب کے تاجروں اور سرمایہ کاروں کے لیے کاروبار میں آسانی پیدا کرے گا۔