پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں منگل کو کاروبار کے دوران کے ایس ای 100 انڈیکس اتار چڑھاؤ کا شکار رہا تاہم کاروبار کے اختتام پر یہ ہموار سطح پر بند ہوا۔

بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے مطابق منگل کے سیشن کے دوران اعلان کردہ کارپوریٹ نتائج سے سرمایہ کاروں کے جوش و خروش میں اضافہ ہوا حالانکہ بین الاقوامی مارکیٹوں میں محتاط رجحانات کی وجہ سے مجموعی طور پر سرگرمیاں سست رہیں۔

کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک 100 انڈیکس 46.97 پوائنٹس یا 0.04 فیصد اضافے کے ساتھ 118,430.35 پوائنٹس پر بند ہوا۔

ٹاپ لائن کے مطابق ایف ایف سی ، اینگرو ایچ ، ایچ ایم بی ، اے جی پی اور اے ٹی ایل ایچ کے حصص میں تیزی کے نتیجے میں انڈیکس کو مثبت زون میں رہنے کیلئے مدد ملی کیوں کہ ان کمپنیوں کی بدولت انڈیکس میں مجموعی طور پر 733 پوائنٹس کا اضافہ ہوا۔

یاد رہے کہ پیر کو کے ایس ای 100 انڈیکس ایک ہزار سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے اسپرنگ اجلاس 2025 کے افتتاحی روز آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا سے ملاقات کے دوران بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو یقین دلایا ہے کہ پاکستان اصلاحات کی رفتار کو جاری رکھے گا۔

پاکستانی حکام اور آئی ایم ایف نے 12 جولائی 2024 کو 5,320 ملین سعودی ریال (یا تقریبا 7 ارب امریکی ڈالر) کے مساوی رقم میں توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) پر اسٹاف لیول کا معاہدہ کیا تھا، جسے بعد میں ستمبر کے آخری ہفتے میں آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے منظور کیا تھا۔

ایشیا کی اسٹاک مارکیٹس کو منگل کو اپنی پوزیشن برقرار رکھنے میں دشواری کا سامنا رہا جب کہ امریکی اثاثوں سے تیزی سے انخلا نے وال اسٹریٹ اور ڈالر کو متاثر کیا جبکہ فیڈرل ریزرو کی آزادی کے حوالے سے خدشات نے ٹریژریز پر مزید دباؤ ڈال دیا۔

ایشیا میں نسبتاً محدود نقصانات نے یہ بات چھیڑ دی کہ فنڈز شاید اس علاقے میں ایکوئٹیز میں پیسہ دوبارہ مختص کر رہے ہوں، حالانکہ ٹیرفز کا معاشی نمو پر اثر ابھی بھی ایک بڑا دباؤ تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شرح سود میں کمی نہ کرنے پر فیڈرل ریزرو بینک کے چیئرمین جیروم پاول کو تنقید کا نشانہ بنائے جانے کے بعد پیر کو وال اسٹریٹ انڈیکس میں 2.5 فیصد کمی واقع ہوئی اور ڈالر تین سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا۔

دریں اثناء انٹر بینک مارکیٹ میں منگل کے روز امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں معمولی بہتری دیکھی گئی جس کے نتیجے میں 0.04 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ کاروبار کے اختتام پر امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپیہ 0.10 روپے کے اضافے سے 280.77 روپے پر بند ہوا۔

آل شیئر انڈیکس کا حجم گزشتہ روز کے 672.44 ملین سے بڑھ کر 740.87 ملین ہو گیا۔

حصص کی قیمت گزشتہ سیشن کے 36.42 ارب روپے سے گھٹ کر 30.52 ارب روپے رہ گئی۔

بی او پنجاب 116.69 ملین حصص کے ساتھ سب سے آگے رہا، اس کے بعد پاور سیمنٹ 67.92 ملین حصص کے ساتھ دوسرے اور پاک انٹرنیشنل بلک 58.81 ملین حصص کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہا۔

منگل کو 451 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا جن میں سے 214 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ، 196 میں کمی جبکہ 41 میں استحکام رہا۔