دبئی میں منعقد ہونے والے انٹرنیشنل پراپرٹی شو (آئی پی ایس) میں پاکستانی نمائش کنندگان نے کہا ہے کہ پراپرٹی انوسٹمنٹ — چاہے کمرشل ہو یا رہائشی — قابلِ بھروسہ منافع فراہم کرسکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس ایونٹ کے ذریعے انہوں نے دنیا بھر کے ڈیولپرز کے ساتھ روابط قائم کیے اور مشترکہ منصوبوں پر دستخط کیے۔

رواں سال کے ایونٹ میں پاکستان بھر سے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) کے مختلف منصوبے موجود تھے۔

ڈی ایچ اے کوئٹہ کے ایڈمنسٹریٹر چوہدری اظہر منیر نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ کی مارکیٹ اور مجموعی طور پر پاکستانی مارکیٹ میں بین الاقوامی سرمایہ کاروں اور ڈیولپرز کے لیے بے پناہ مواقع موجود ہیں۔

ڈی ایچ اے کوئٹہ کا رقبہ تقریباً 19 ہزار ایکڑ پر محیط ہے جو شہر کے بین الاقوامی ائرپورٹ کے قریب واقع ہے اور اس میں کمرشل اور رہائشی دونوں اقسام کی جائیداد کے لیے جگہ موجود ہے۔

اظہر منیر کے مطابق یہاں 600 ایکڑ کا ایک علاقہ بھی ہے جو خصوصی طور پر اکنامک زون کے لیے مختص کیا گیا ہے اور اسے گوادر اور چین-پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے راستوں تک بہترین رسائی حاصل ہے۔

چوہدری اظہر منیر اس بات کے خواہاں ہیں کہ وہ چینی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کریں تاکہ ڈی ایچ اے کوئٹہ میں ایک سولر پارک تعمیر کیا جاسکے جس سے توانائی کی فراہمی کو زیادہ ماحول دوست، سستی اور پائیدار بنایا جاسکے۔

پراپرٹی شو میں وہ ایسے ڈیولپرز کی تلاش میں تھے جو ڈی ایچ اے کے منصوبوں میں گھروں کی تعمیر کیلئے سرمایہ کاری کرنے پر آمادہ ہوں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے ایک بین الاقوامی فرم کے ذریعے فزیبیلٹی اسٹڈی کروائی اور ہم نے یہ محسوس کیا کہ 2042 تک آئندہ 17 سال میں کوئٹہ کو ایک ملین رہائشی یونٹس کی ضرورت ہوگی جو دو اہم عوامل پر مبنی ہیں: آبادی کا بڑھتا ہوا تناسب اور شہری کاری کا رجحان۔

ڈی ایچ اے کوئٹہ کے لیے 3 روزہ ٹریڈ شو کے پہلے دن خوش قسمتی نے دروازہ کھولا جب اس نے یو اے ای کی ایک فرم کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے۔ اگرچہ فرم کا نام ظاہر نہیں کیا جا سکا لیکن چوہدری منیر نے کہا کہ ان کے اونر نے آئندہ دنوں میں پاکستان کا دورہ کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔

چوہدری منیر کے مطابق یہ پہلا غیر ملکی ڈیولپر نہیں ہوگا جس نے ڈی ایچ اے کوئٹہ میں سرمایہ کاری کی ہے۔ میٹاس ٹریڈنگ لمیٹڈ، ایک قطری تعمیراتی کمپنی، پہلے ہی کئی گھروں کی تعمیر کرچکی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کار کوئٹہ اور پاکستان میں اعتماد رکھ کر سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیار ہیں۔

دریں اثنا پنجاب سے ڈی ایچ اے کی نمائندگی ڈی ایچ اے گوجرانوالہ کے رجسٹرڈ ڈیلر رانا اسٹیٹ اینڈ بلڈرز کے جنرل منیجر احتشام فیاض نے کی۔

انہوں نے گجرات، سیالکوٹ اور منڈی بہاؤالدین کے آس پاس کے صنعتی علاقوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ڈی ایچ اے گوجرانوالہ بنیادی طور پر ایک سنہری مثلث ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ کمیونٹی دنیا بھر کے لوگوں کے لیے کھلی ہوئی ہے کیونکہ یہ ایک قابل عمل سرمایہ کاری کا موقع ہے۔

احتشام فیاض نے کہا کہ 9 ہزار 500 ایکڑ زمین کاروباری مالکان کے لیے ایک مثالی رہائشی کمیونٹی ہے جو اپنا کاروبار پاکستان لانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ڈی ایچ اے گوجرانوالہ کے فیز ون کے دو شعبوں کا 40 فیصد پہلے ہی ترقی یافتہ اور آباد ہو چکا ہے اور مستقبل روشن نظر آرہا ہے۔ فیاض نے کہا کہ ایونٹ میں شرکاء نے گہری دلچسپی ظاہر کی۔

جہاں زیادہ تر ڈی ایچ اے کے نمائش کنندگان ایونٹ میں کمرشل اور رہائشی منصوبے پیش کررہے تھے، وہاں ملیر انڈسٹریل پارک، جو دسمبر 2024 میں شروع کیا گیا تھا کا مقصد صرف صنعتی کلائنٹس کو اپنی جانب متوجہ کرنا تھا۔

ملیر انڈسٹریل پارک کے چیف انجینئر کرنل (ر) عاطف گلزار شیخ نے کہا کہ 2200 ایکڑ پر محیط گیٹڈ پارک پاکستان اکنامک زون ڈیولپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی کا منصوبہ ہے۔

عاطف گلزار شیخ نے کہا کہ یہ منصوبہ اسٹریٹجک طور پر دو ہائی ویز کے قریب واقع ہے اور کراچی کے بندرگاہوں تک تیز رسائی فراہم کرتا ہے۔ اس کا مقصد اپنے کلائنٹس کو اعلیٰ معیار کی صنعتی خدمات فراہم کرنا ہے جنہیں بہتر تعاون کیلئے ایک ہی شعبے کے کلسٹروں میں رکھا جائے گا، ہم یہاں اپنے منصوبے کو عالمی سطح پر متعارف کرانے آئے ہیں۔ انہوں نے آئی پی ایس میں اپنی موجودگی کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ لوگ جانیں کہ ایک صنعتی پارک آرہا ہے۔

عاطف گلزار شیخ نے کہا کہ پارک جدید ترین انفرااسٹرکچر فراہم کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم بہترین سڑکوں کا انفرااسٹرکچر اور سہولتیں فراہم کریں گے۔ ہم اپنے صنعتی پارک میں پائیدار ماحول فراہم کرنا چاہتے ہیں اور ہم اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف کو پورا کرنا چاہتے ہیں۔ “پارک کے باہر کوئی بھی فضلہ بغیر تصفیے کے نہیں چھوڑا جائے گا۔

نمائش کنندگان کی کوششیں شرکاء پر گہرا اثر چھوڑنے میں کامیاب ہوئیں۔

دبئی میں قائم ایلیٹ پراپرٹی کی ہیڈ آف کمرشل بی میرانی نے کہا کہ صنعتی پارک کا مقام ان کے کلائنٹس کے لیے خاص طور پر فائدہ مند ہوگا جو پاکستان سے خام مال درآمد کر کے یو اے ای میں مصنوعات تیار کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ شو کا دورہ کرنے کا فائدہ یہ ہے کہ میں اپنے ہم منصوبوں کو جان سکتی ہوں اور ڈیولپرز کے ساتھ رابطے میں آسکتی ہوں۔

انہوں نے کہا کہ عام عوام کیلئے میرا خیال ہے کہ اگر آپ کچھ آف پلان خریدنا چاہتے ہیں تو یہ وہ جگہ ہے جہاں آپ کو آنا چاہیے کیونکہ یہاں بہت سے وینڈرز موجود ہیں۔

بین الاقوامی پراپرٹی شو کا 21 واں ایڈیشن 14 سے 16 اپریل تک دبئی ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں منعقد ہوا، جس میں 85 ممالک کے 300 سے زائد نمائش کنندگان نے شرکت کی اور 25 ہزار سے زائد وزیٹرز نے شو کا دورہ کیا۔

اس سال کا ایڈیشن دبئی رئیل اسٹیٹ سیکٹر اسٹریٹیجی 2033 کے آغاز کے ساتھ مطابقت رکھتا تھا، جس کا مقصد شفافیت کے فروغ، جدت کی حوصلہ افزائی اور ایک مربوط و پائیدار سرمایہ کاری ماحول کے قیام کے ذریعے دبئی کو رئیل اسٹیٹ کا عالمی مرکز بنانا ہے۔

دبئی لینڈ ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر جنرل مروان احمد بن غلیطہ نے ایک بیان میں کہا کہ یہ ایونٹ دبئی کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ پر بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔

پراپرٹی کنسلٹنسی ”بیٹر ہومز“ کے مطابق، 2024 میں دبئی میں رئیل اسٹیٹ خریدنے والے ٹاپ فائیو غیر ملکی خریداروں میں پاکستانی بھی شامل تھے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025