کاروبار اور معیشت

راست نے 892 ملین سے زائد ٹرانزیکشنز کا عمل مکمل کرلیا

  • ٹرانزیکشنز مجموعی مالیت 20 کھرب روپے سے تجاوز کر چکی ہے
شائع April 20, 2025 اپ ڈیٹ April 20, 2025 10:19am

راست، جو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا تیار کردہ ملک کا پہلا فوری ڈیجیٹل ادائیگی نظام ہے، اپنی شروعات سے اب تک 892 ملین سے زائد لین دین مکمل کر چکا ہے جن کی مجموعی مالیت 20 کھرب روپے سے تجاوز کر چکی ہے۔

پاکستان فنانشل لٹریسی ویک 2025 کے سلسلے میں، اسٹیٹ بینک کے ڈپٹی گورنر سلیم اللہ نے ہفتے کے روز کراچی کے کلفٹن کے ایک مقامی شاپنگ مال میں ’گو کیش لیس‘ مہم کا افتتاح کیا۔ یہ مہم 12 سرکردہ مالیاتی اداروں کے اشتراک سے منعقد کی گئی جس کا مقصد صارفین اور دکانداروں کو ڈیجیٹل ادائیگیوں کے استعمال اور فوائد سے آگاہ کرنا اور کیش لیس معیشت کی طرف منتقلی کو فروغ دینا تھا۔

ڈپٹی گورنر نے کہا کہ گو کیش لیس مہم صرف ایک تقریب نہیں بلکہ پاکستان کو ڈیجیٹل معیشت کی طرف تیزی سے منتقل کرنے کے بڑے وژن کا حصہ ہے۔ انہوں نے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے اہم اعداد و شمار بیان کرتے ہوئے بتایا کہ اسٹیٹ بینک کا فلیگ شپ پلیٹ فارم راست 2025 کی دوسری سہ ماہی میں 795.7 ملین ٹرانزیکشنز کی پروسیسنگ کر چکا ہے جن کی مالیت 6.4 کھرب روپے ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ موبائل اور انٹرنیٹ بینکنگ کے ذریعے ٹرانزیکشنز میں 62 فیصد کا زبردست اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ فنانشل ایئر 2024 میں ڈیجیٹل لین دین کی مجموعی تعداد میں 35 فیصد اضافہ ہوا، جو 4.7 ارب سے بڑھ کر 6.4 ارب تک پہنچ گئی، جبکہ ان کی مالیاتی مالیت 547 کھرب روپے تک جا پہنچی۔

سلیم اللہ نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کی مالی شمولیت کو فروغ دینے اور ڈیجیٹلائزیشن اپنانے کی رفتار تیز کرنے کے ایجنڈے کے تحت یہ سرگرمی منعقد کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل کی ڈیجیٹل ادائیگیوں کا تصور شمولیت، جدت اور انضمام پر مبنی ہے۔ اسٹیٹ بینک کا ہدف ایک ایسی معیشت ہے جو نقدی پر انحصار کم کرے، جہاں ڈیجیٹل ادائیگیاں نہ صرف بہتر متبادل بلکہ سب کے لیے پہلی پسند ہوں—چاہے وہ کسی منڈی کا ایک چھوٹا دکاندار ہو یا کسی مال میں بڑا ریٹیل اسٹور۔

ایسی مہمات کے ذریعے اسٹیٹ بینک عوام کو یہ دکھا رہا ہے کہ کیش لیس جانا نہ صرف آسان اور محفوظ ہے بلکہ بااختیار بنانے والا قدم بھی ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025