اسلام آباد ہائی کورٹ: کھاد کی قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار سے متعلق کیس کا فیصلہ محفوظ
اسلام آباد ہائیکورٹ نے وکلا کے دلائل مکمل ہونے کے بعد کھاد کی قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار سے متعلق کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے فرٹیلائزر کمپنیوں کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی۔ سماعت کے دوران فرٹیلائزر کمپنیوں اور کمپی ٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) کے وکلاء نے دلائل دیئے۔
سماعت کے دوران فرٹیلائزر کمپنیوں کے وکلاء نے کہا کہ کمپنیوں کی کاسٹنگ کی معلومات رازدارانہ ہوتی ہیں لہٰذا یہ معلومات کمپی ٹیشن کمیشن کو فراہم نہیں کی جاسکتیں۔
وکیل کمپی ٹیشن کمیشن کا کہنا تھا کہ ایس ای سی پی ریگولیشنز کے مطابق تمام کمپنیاں کاسٹ آڈٹ ایس ای سی پی کو جمع کرانے کی پابند ہیں، کمپنیاں ایس ای سی پی کو یہ معلومات فراہم بھی کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ کمپنیاں ایک ریگولیٹر کو تو کاسٹ آڈٹ کی معلومات جمع کراتی ہیں لیکن دوسرے ریگولیٹر کو یہی معلومات فراہم کرنے سے انکاری ہیں۔
عدالت نے فریقین کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا۔
واضح رہے کہ گھی اور کھانے کے تیل کی تیار کرنے والی کمپنیوں کے خلاف کیس میں، سپریم کورٹ نے مسابقتی کمیشن کے دائرہ اختیار کو تسلیم کرتے ہوئے یہ وضاحت کی تھی کہ کمیشن کو مارکیٹوں کی نگرانی کرنے، معلومات حاصل کرنے اور تحقیقات کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔
سی سی پی نے کھادوں کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے حوالے سے فرٹیلائزر کمپنیوں کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا اور ان کمپنیوں سے معلومات طلب کیں۔ کمیشن کو جواب دینے کے بجائے فرٹیلائزر کمپنیوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا انتخاب کیا، جہاں انہوں نے حکم امتناع حاصل کیا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025