پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں کاروباری ہفتے کے آخری روز( جمعہ کو) بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 414 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ بند ہوا۔

کے ایس ای-100 انڈیکس میں ابتدائی سیشن کے دوران کچھ منفی رجحان دیکھا گیا اور100 انڈیکس دن کی کم ترین سطح 116,759.07 پوائنٹس تک گرگیا۔

بعد کے گھنٹوں میں خریداری کا رجحان بحال ہوا جس نے 100 انڈیکس کو انٹرا ڈے کی بلند ترین سطح 117،888.13 پوائنٹس پر پہنچا دیا۔

کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک 100 انڈیکس 414.45 پوائنٹس یا 0.35 فیصد اضافے کے ساتھ 117,315.59 پوائنٹس پر بند ہوا۔

بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے اپنی پوسٹ مارکیٹ رپورٹ میں کہا کہ کاروباری سیشن کے دوران کے ایس ای 100 انڈیکس میں بڑے پیمانے پر مثبت زون میں کاروبار ہوا جس کی وجہ مثبت خبروں کا بہاؤ ہے، پاکستان نے مارچ میں اپنے سب سے زیادہ ماہانہ کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ریکارڈ کیے۔

انڈیکس میں سب سے زیادہ مثبت حصہ یو بی ایل، ایل او سی، ایس اے زیڈ ای ڈبلیو، ایم ای بی ایل اور ایس وائی ایس کا رہا کیونکہ انہوں نے مجموعی طور پر انڈیکس میں +913 پوائنٹس کا حصہ ڈالا۔

جمعرات کو پی ایس ایکس میں خریداری کا رجحان بحال ہوا، کے ایس ای 100 میں 881 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 116,901.13 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔

ایک اہم پیشرفت میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی جانب سے جمعرات کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2025 ء میں پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ میں 1.2 ارب ڈالر کا نمایاں سرپلس ریکارڈ کیا گیا جب کہ فروری 2025 میں 97 ملین ڈالر کا خسارہ ہوا تھا۔

سالانہ بنیاد پر کرنٹ اکاؤنٹ میں 230 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

بروکریج ہاؤسز ٹاپ لائن سیکیورٹیز اور عارف حبیب لمیٹڈ کے مطابق مارچ 2025 کے دوران ملکی کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس میں تاریخ کا سب سے بڑاماہانہ سرپلس ریکارڈ کیا گیا ہے۔

ایک اور ایشیائی ملک چینی اسٹاکس جمعہ کو قدرے نیچے آ گئے اور لگتا ہے کہ وہ اس ہفتے کے اختتام تک فلیٹ رہیں گے، کیونکہ مارکیٹ نے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دو بڑی معیشتوں کے درمیان تجارتی جنگ کے خاتمے کے امکان کے اشارے کے بعد ایک وقفہ لیا۔

چین کے بلیو چپ سی ایس آئی 300 انڈیکس اور شنگھائی کمپوزٹ انڈیکس دونوں میں 0.4 فیصد کی کمی آئی۔ ہفتے کے اختتام تک سی ایس آئی 300 انڈیکس میں 0.2 فیصد کی اضافے کی توقع ہے۔

دریں اثناء انٹر بینک مارکیٹ میں جمعہ کو کاروبار کے دوران امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں 0.03 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے میں روپیہ 280.72 روپے پر بند ہوا جو گزشتہ روز کے مقابلے میں 10 پیسے کی کمی ہے۔

آل شیئر انڈیکس کا حجم گزشتہ بند کے 408.07 ملین سے بڑھ کر 425.12 ملین ہو گیا۔

حصص کی مالیت گزشتہ سیشن کے 32.13 ارب روپے سے گھٹ کر 34.49 ارب روپے رہ گئی۔

سوئی سدرن گیس 38.24 ملین شیئرز کے ساتھ سب سے آگے رہی، پاک انٹرنیشنل بلک 30.96 ملین شیئرز کے ساتھ دوسرے اور کے الیکٹرک لمیٹڈ 22.91 ملین شیئرز کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہی۔

جمعہ کو 446 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا جن میں سے 189 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ، 197 میں کمی جبکہ 60 میں استحکام رہا۔