وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کے روز پاکستان کی معاشی بحالی پر امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملکی معیشت اب مستحکم ہو چکی ہے اور ترقی و خوشحالی کی جانب گامزن ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بلوچستان کا این ایف سی ایوارڈ میں حصہ دوگنا کر دیا گیا ہے۔
جناح اسکوائر مری روڈ انڈرپاس کے سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے ملکی استحکام میں حکومت اور مسلح افواج کی اجتماعی کوششوں کو سراہا۔
انہوں نے کہا، ’’پاکستان کی بحالی مشترکہ کوششوں اور ٹیم ورک کا نتیجہ ہے، قوم اب ترقی کے اگلے مرحلے کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے چیلنجز کا سامنا کرنے میں ثابت قدمی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا، جس طرح ٹیم پاکستان نے مشکل وقت میں صبر و استقامت کا مظاہرہ کیا، اسی جذبے سے ہم ترقی کی راہ پر گامزن رہیں گے۔’
وزیراعظم نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری سمیت متعدد مثبت پیش رفتوں کو اجاگر کیا۔ بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسی فچ نے حال ہی میں پاکستان کا آؤٹ لک ’مستحکم‘ کر دیا ہے، جسے انہوں نے ملکی معاشی سمت کے لیے خوش آئند قرار دیا۔
انہوں نے بلوچستان کی ترقی میں بڑھتے ہوئے کردار کا بھی تذکرہ کیا اور کراچی-قلات-خضدار-کوئٹہ ہائی وے جیسے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ یہ سڑک، جو ماضی میں ’قاتل روڈ‘ کے طور پر جانی جاتی تھی اور 2,000 سے زائد جانیں لے چکی ہے، اب ایک جدید شاہراہ میں تبدیل کی جا رہی ہے۔
بلوچستان میں جاری سب سے اہم منصوبوں میں سے ایک، این-25 ہائی وے کی دو رویہ تعمیر ہے جو چمن، کوئٹہ، قلات، خضدار اور کراچی کو آپس میں جوڑے گی۔
شہباز شریف نے اس منصوبے کو ’بلوچستان کے عوام کے لیے تحفہ‘ قرار دیا جو نہ صرف سفر کو محفوظ بنائے گا بلکہ صوبے کی معیشت کو بھی ترقی دے گا۔
انہوں نے بتایا کہ اگرچہ اس منصوبے کی ابتدائی لاگت 214 ارب روپے تھی، لیکن مہنگائی کے باعث اب یہ بڑھ کر 300 ارب روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔ اس کے باوجود، انہوں نے یقین دلایا کہ یہ منصوبہ دو سال میں مکمل کر لیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا، ’یہ سڑک ترقی کی راہ ہموار کرے گی اور بلوچستان کے پسماندہ علاقوں کو کراچی کے معاشی مرکز سے جوڑے گی۔‘
انہوں نے این ایف سی ایوارڈ میں بلوچستان کے حصے میں اضافے کو نمایاں کیا اور اس صوبے کی ترقی پر تنقید کرنے والوں کو تنگ نظری کا شکار قرار دیا۔
وزیراعظم نے اختتام پر کہا کہ ان کی حکومت ترقی کے سفر کو اتحاد اور عزم کے ساتھ جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔
قبل ازیں، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے تقریب سے خطاب میں یقین دلایا کہ انڈرپاس کا منصوبہ 35 دن میں مکمل کیا جائے گا، جو 60 دن کی ابتدائی مدت سے کہیں کم ہے۔
انہوں نے اسلام آباد میں جاری دیگر منصوبوں کا بھی ذکر کیا، جن میں اہم چوراہوں کی بہتری اور بلیو ایریا میں غیر فعال پارکنگ پلازہ کی بحالی شامل ہے۔
انہوں نے کہا، ’’ہم اسلام آباد کو پاکستان اور پورے خطے کے لیے ایک ماڈل شہر بنا رہے ہیں،‘‘ اور بتایا کہ مخصوص مقامات پر پارکنگ فیس متعارف کرانے اور اسلام آباد پولیس میں ایک خصوصی ٹریفک فورس قائم کرنے کا منصوبہ بھی زیر غور ہے، جو دارالحکومت کے بنیادی ڈھانچے کو مزید بہتر بنائے گا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025