پاکستان میں رواں مالی سال (مالی سال 25-2024) کے پہلے نو مہینوں کے دوران براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) میں 14 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق، جولائی تا مارچ مالی سال 25-2024 میں ملک میں 1.644 ارب ڈالر کی براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری موصول ہوئی، جو کہ گزشتہ مالی سال (مالی سال 24-2023) کی اسی مدت میں 1.442 ارب ڈالر تھی، جو 202 ملین ڈالر کا اضافہ ظاہر کرتی ہے۔ اس دوران ایف ڈی آئی کی آمد 2.472 ارب ڈالر رہی جبکہ اخراجات (آؤٹ فلو) 828 ملین ڈالر کے تھے۔

ماہرین معیشت کا کہنا ہے کہ ایف ڈی آئی میں یہ مثبت رجحان ملکی معیشت میں سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے، جو کہ میکرو اکنامک استحکام اور آئی ایم ایف کے ساتھ جاری پیش رفت سے جُڑا ہے۔

تاہم ماہرین نے خبردار کیا کہ اس رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے پالیسیوں میں تسلسل اور حکومتی استحکام ناگزیر ہیں، کیونکہ بار بار ریگولیٹری تبدیلیاں اور سیاسی غیر یقینی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کرتی ہیں۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق مارچ 2025 میں ماہانہ بنیاد پر ایف ڈی آئی میں 91 فیصد کی نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔ مارچ 2025 میں پاکستان کو 25.7 ملین ڈالر کی خالص ایف ڈی آئی موصول ہوئی، جبکہ مارچ 2024 میں یہ 294.2 ملین ڈالر تھی۔

رواں مالی سال کے دوران ایف ڈی آئی کا سب سے بڑا حصہ چین سے آیا، جس کا کل ایف ڈی آئی میں 41 فیصد حصہ رہا۔ جولائی تا مارچ مالی سال 25-2024 میں چین سے ایف ڈی آئی 107 فیصد اضافے کے ساتھ 684.5 ملین ڈالر تک پہنچ گئی، جو کہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 330.3 ملین ڈالر تھی۔ ہانگ کانگ سے بھی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا، جو کہ گزشتہ سال کے 153.8 ملین ڈالر کے مقابلے میں بڑھ کر 175.9 ملین ڈالر ہو گئی۔

شعبہ جاتی تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ مالیاتی خدمات کے شعبے میں مضبوط سرمایہ کاری دیکھی گئی، جو کہ رواں مالی سال کے پہلے نو مہینوں میں بڑھ کر 518.4 ملین ڈالر ہو گئی، جبکہ گزشتہ مالی سال میں یہ 464.8 ملین ڈالر تھی۔ بجلی کے شعبے میں بھی نمایاں ترقی ہوئی، جہاں غیر ملکی سرمایہ کاری 342.5 ملین ڈالر سے بڑھ کر 500 ملین ڈالر تک پہنچ گئی۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025