بیجنگ نے جمعہ کو امریکی درآمدات پر ٹیرف 125 فیصد بڑھا دیا جو کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے چین کی مصنوعات پر 145 فیصد ڈیوٹی بڑھانے کے فیصلے کا جوابی اقدام تھا۔ یہ اقدام تجارتی جنگ میں شدت کا باعث بن رہا ہے، جس سے عالمی سپلائی چینز متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

یہ اضافہ اس وقت ہوا جب وائٹ ہاؤس نے دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت اور امریکہ کی درآمدات کے دوسرے بڑے ذرائع پر اضافی ٹیرف بڑھایا جبکہ دیگر ممالک پر عائد بیشتر جوابی ٹیرف کو عارضی طور پر معطل کردیا۔

چین کی وزارت خزانہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکا کی جانب سے چین پر غیر معمولی طور پر زیادہ محصولات عائد کرنا بین الاقوامی اور معاشی تجارتی قوانین اور بنیادی معاشی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے اور یہ مکمل طور پر یکطرفہ غنڈہ گردی ہے۔