شرح نمو میں کمی کی پیش گوئی
ایشین ڈیولپمنٹ بینک نے پاکستان کی رواں سال کی شرحِ نمو کو کم کر کے 2.5 فیصد کر دیا ہے، جو کہ حکومت کی جانب سے بجٹ میں مقرر کردہ 3.5 فیصد اور انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے پانچ ماہ قبل اکتوبر میں پیش گوئی کی گئی 3.2 فیصد شرح سے کم ہے (اگرچہ یہ شرح مزید کم ہونے کی توقع ہے جب 25 مارچ کو طے پانے والے اسٹاف لیول معاہدے سے متعلق دستاویزات بورڈ کی منظوری کے بعد اپلوڈ کی جائیں گی)۔
یہ قابلِ ذکر بات ہے کہ آئی ایم ایف مشن کی 25 مارچ کی جاری کردہ پریس ریلیز میں ممکنہ طور پر شرحِ نمو میں کمی کا کوئی ذکر نہیں تھا، حالانکہ ”جامع ترقی“ (inclusive growth) کا ذکر نمایاں طور پر اُس جملے میں موجود تھا جس میں حکام نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وہ ”اداروں کی صلاحیت کو مزید مضبوط کریں گے تاکہ بدعنوانی سے نمٹا جا سکے اور تجارتی رکاوٹوں میں نمایاں کمی کی جائے، تاکہ جامع ترقی اور کاروبار و سرمایہ کاری کے لیے یکساں مواقع فراہم کیے جا سکیں“۔ — یکساں مواقع سے مراد یہ ہے کہ تمام پیداواری شعبوں کے لیے سبسڈی ختم کی جائے، کسانوں پر انکم ٹیکس بھی لاگو کیا جائے، اکنامک زونز کو سرکاری حمایت نہ دی جائے اور مقامی و غیرملکی سرمایہ کاروں کو یکساں مراعات دی جائیں — جو کہ قلیل مدت میں شرحِ نمو کو مزید کمزور کر سکتے ہیں۔
عالمی بینک نے پاکستان کی شرحِ نمو 2.8 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی ہے، جو کہ ملک کی صلاحیت سے کم ہے، اس کی وجہ سخت معاشی پالیسیاں (مالیاتی اور مانیٹری) اور بلند مہنگائی بتائی گئی ہے (اگرچہ یہ پیش گوئی اب پرانی ہو چکی ہے کیونکہ مارچ 2025 میں مہنگائی بڑھنے کی شرح کم ہو کر صرف 0.7 فیصد رہ گئی ہے)۔ تاہم تشویشناک بات یہ ہے کہ ورلڈ بینک نے مزید کہا ہے کہ تنخواہوں اور روزگار میں سست روی (سوائے سرکاری ملازمین — سول و عسکری — کے لیے بجٹ میں رکھی گئی 20 سے 25 فیصد اضافے کے، جو کل ورک فورس کا 78 فیصد ہیں) اور آبادی میں تقریباً 2 فیصد کی بلند شرحِ نمو کے باعث، مالی سال 2025 کے لیے غربت کی شرح 42.3 فیصد پر برقرار رہنے کا امکان ہے، جو کووڈ-19 کے عروج کے وقت کی سطح کے قریب ہے، اور اس کا مطلب ہے کہ مزید 18 لاکھ افراد غربت کا شکار ہوں گے۔
مزید برآں اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بھی اپنی جولائی تا دسمبر 2024 کی ششماہی رپورٹ میں شرحِ نمو کو کم کردیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ مالی سال 2024 میں حاصل ہونے والی معاشی بحالی جس میں جی ڈی پی کی شرحِ نمو 2.5 فیصد رہی (جبکہ مالی سال 2023 میں 0.2 فیصد کی کمی واقع ہوئی تھی)، مالی سال 2025 کی پہلی سہ ماہی میں 0.92 فیصد کی مثبت نمو کے ساتھ برقرار ہے ۔“
تاہم گزشتہ سال کی 2.3 فیصد شرح کے مقابلے میں رواں سال نمو کی رفتار سست ہوگئی ہے جو کہ اہم شعبوں، خاص طور پر زراعت میں اعتدال کی عکاسی کرتی ہے۔ اس حوالے سے یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ خدمات کا شعبہ (جس میں سب سے بڑا حصہ ہول سیل اور ریٹیل ٹریڈ کا ہے) اور زراعت وہ شعبے تھے جن سے نمو کی قیادت کی توقع تھی، جبکہ جولائی تا جنوری 2025 کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق بڑے پیمانے کی صنعت (ایل ایس ایم) میں 1.78 فیصد منفی نمو ریکارڈ کی گئی، جو کہ گزشتہ سال اسی مدت کے دوران منفی 0.65 فیصد تھی—حالانکہ شرحِ سود اپریل 2024 میں 22 فیصد سے کم ہو کر موجودہ سطح 12 فیصد تک آ چکی ہے۔
موڈیز کی رپورٹ، جو امریکی صدر ٹرمپ کے جانب سے 90 دن کے لیے ٹیرف مؤخر کرنے کے فیصلے سے پہلے لکھی گئی تھی، اس میں کہا گیا ہے کہ اگر امریکہ نے پاکستان کی برآمدات پر ٹیرف نافذ کیے تو ملک کے بیرونی کھاتے کی صورتحال مزید خراب ہوسکتی ہے۔
اگرچہ ان ممالک کی فہرست تاحال جاری نہیں کی گئی جو اس وقتی مہلت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، لیکن یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ بین الاقوامی تجارتی نظام میں ایک بڑی تبدیلی رونما ہو رہی ہے، جس کے باعث امریکہ کے کئی تجارتی شراکت دار متبادل منڈیاں تلاش کرنے اور ڈالر کے بجائے دیگر کرنسیوں میں تجارت کرنے پر مجبور ہورہے ہیں۔ یہ ابھرتی ہوئی حقیقت غالباً صدر ٹرمپ کے ٹیرف 90 دن کے لیے مؤخر کرنے کے فیصلے کا سبب بنی، کیونکہ اُن کی توجہ اپنے معاشی حریف چین پر مرکوز ہے — جو نہ صرف امریکہ کے ساتھ تجارت پر جوابی ٹیرف عائد کررہا ہے اور اپنے اسٹاک مارکیٹس کو ادارہ جاتی مدد سے مستحکم کررہا ہے، بلکہ جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کے ساتھ سرگرم تجارتی روابط میں بھی مصروف ہے اور امریکہ کے سابق تجارتی شراکت داروں اور اتحادیوں سے بھی واضح طور پر روابط بڑھارہا ہے۔
پاکستان کو بھی اب اپنی برآمدات کے لیے متبادل منڈیاں فعال انداز میں تلاش کرنا ہوں گی — ایک ایسا ہدف جو گزشتہ تقریباً ایک دہائی سے نعرہ بازی کی حد تک بیان کیا جاتا رہا ہے، جیسے کہ ’پاکستان کو خودمختار بنائیں‘، ’پاکستانی خریدیں‘ اور ’میک اِن پاکستان‘ جیسے نعرے۔ تاہم وزارت تجارت نے زیادہ تر اپنی توجہ پانچ بڑے برآمد کنندگان کے لیے مالی اور مالیاتی مراعات حاصل کرنے پر مرکوز رکھی، جو کہ دراصل اس کے دائرہ اختیار میں آتی ہی نہیں تھیں، بجائے اس کے کہ وہ نئی منڈیوں کی تلاش میں فعال کردار ادا کرتی۔
لہٰذا اس بات کا امکان کم ہے کہ رواں سال شرحِ نمو 2.5 فیصد سے زیادہ ہو، اور اس کی بنیادی وجہ آئی ایم ایف پروگرام کی شرائط ہیں، خاص طور پر اس تناظر میں کہ حکومت ڈھانچہ جاتی اصلاحات، بالخصوص ٹیکس اصلاحات پر سست روی کا شکار ہے—ایسی اصلاحات جو ٹیکس نیٹ کو وسیع کر سکتی تھیں، مگر اس کے برعکس موجودہ ٹیکس دہندگان پر مزید بوجھ ڈالا جا رہا ہے، جبکہ حکومت کی اپنی جاری اخراجات پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی، جنہیں اندرونی اور بیرونی قرضوں کے ذریعے پورا کیا جا رہا ہے۔ تشویشناک امر یہ ہے کہ جب شرحِ نمو جمود کا شکار ہو تو غربت میں اضافہ ہوتا رہے گا۔
یہ امید کی جاسکتی ہے کہ حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ اپنی پوزیشن کو مضبوط بنانے پر توجہ دے گی، جو کہ ممکن ہے اگر آئندہ مالی سال کے بجٹ میں جاری اخراجات میں بڑے پیمانے پر، یعنی 2 سے 3 کھرب روپے تک کی کٹوتی کی جائے۔ اس اقدام سے حکام کو آئی ایم ایف کی حمایت یافتہ سخت مالی اور مانیٹری پالیسیوں کی شدت کا مؤثر طور پر مقابلہ کرنے کا موقع ملے گا۔
کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2025