سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی- گارنٹیڈ(سی پی پی اے-جی) اور 156 میگاواٹ کے اٹک جنرل لمیٹڈ نے نیپرا میں مشترکہ درخواست جمع کروائی ہے، جس میں منصوبے کے موجودہ ٹیرف میں نظرثانی کی استدعا کی گئی ہے۔ یہ درخواست پاور ٹاسک فورس کے ساتھ طے پانے والی شرائط کے مطابق دی گئی ہے، بشرطیکہ غیر معمولی منافع کے خلاف جاری کارروائیوں کو واپس لے لیا جائے۔

سی پی پی اے-جی اور اٹک جین دونوں نے دیگر انڈیپینڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کی طرح ”ہائبرڈ ٹیک اینڈ پے“ میکانزم پر اتفاق کیا ہے۔

درخواست میں نیپرا سے درج ذیل نکات کی منظوری کی درخواست کی گئی ہے:

1 . درخواست کو قبول کیا جائے؛
2 . آپریشن اور مینٹیننس (او اینڈ ایم) کی لاگت کے اشاریاتی نظام میں ترمیم؛
3 . انشورنس اجزاء کے اشاریاتی نظام میں ترمیم؛
4 . فارن کمپوننٹ آف ریٹرن آن ایکویٹی( آر او ای) اورتعمیر کے دوران ایکویٹی پر ریٹرن( آر او ای ڈی سی) میں ایڈجسٹمنٹ؛
5 . موجودہ ”ٹیک اور پے“ ماڈل کو ”ہائبرڈ ٹیک اینڈ پے“ میں تبدیل کیا جائے، جس کے تحت کمپنی کو 35 فیصد آر او ای اورآر او ای ڈی سی بطور سی پی پی دیا جائے گا، جبکہ بقیہ ادائیگیاں بجلی کی اضافی پیداوار سے مشروط ہوں گی۔

کمپنی نے نیپرا سے اے اے کی شق 3.2 کے مطابق ترمیم شدہ ٹیرف کے نفاذ کی استدعا کی ہے، جو کہ نوٹیفکیشن کی تاریخ اور نیپرا کی جانب سے کمپنی کے خلاف غیر معمولی منافع سے متعلق دعووں کی واپسی سے مشروط ہے۔

مزید برآں، سی پی پی اے-جی اور 9 بیگاس سے چلنے والے آئی پی پیز نے بھی ٹیرف میں نظرثانی کیلئے مشترکہ درخواستیں دی ہیں، جو پاور ٹاسک فورس سے مذاکرات اور وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد طے پائی ہیں۔

نیپرا نے مندرجہ ذیل اہم نکات کے ساتھ ان درخواستوں کو سماعت کیلئے منظور کر لیا ہے:

  1. فیول لاگت کے جز میں ترمیم؛
  2. ورکنگ کیپیٹل کمپوننٹ میں 50 فیصد کمی؛
  3. آر او ای اور آر او ای ڈی سی کو 17 فیصد پی کے آر بیس پر مقرر کرنا (بغیر مستقبل کی ڈالر انڈیکسنگ کے)؛
  4. او اینڈ ایم لاگت میں 10 فیصد کمی؛
  5. او اینڈ ایم انڈیکسنگ میں ترمیم؛
  6. انشورنس کی حد کو منظور شدہ لاگت کا 0.7 فیصد مقرر کرنا؛
  7. کمپنی کو بلک پاور کنزیومرز کو بجلی فروخت کرنے کی اجازت دینا۔

نیپرا نے اس معاملے پر 16 اپریل 2025 کو عوامی سماعت کا فیصلہ کیا ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025