امریکہ کی جانب سے نئے ٹیرفز کے پاکستان کی پہلے سے کمزور معیشت پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے بڑھتی ہوئی تشویش کے درمیان، وزیرِاعظم شہباز شریف نے بدھ کے روز ایک اعلیٰ سطح وفد کو واشنگٹن بھیجنے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔
وزیرِاعظم نے وفد کو ہدایت دی ہے کہ وہ دو طرفہ تجارتی تعلقات کو فروغ دینے اور امریکی حکام کے ساتھ نئے ٹیرف اقدامات پر براہ راست بات چیت کرے۔
وزیراعظم آفس سے جاری ایک بیان کے مطابق، اس وفد میں نمایاں کاروباری شخصیات اور برآمدکنندگان شامل ہوں گے، جن کا مقصد ٹیرفز کے اثرات پر مذاکرات کرنا اور ایک متوازن تجارتی فریم ورک کی تشکیل کے امکانات کا جائزہ لینا ہے۔
وزیرِاعظم شہباز شریف نے ملک کی برآمدی حکمتِ عملی اور امریکی ٹیرفز پر ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے امریکہ سے براہِ راست رابطے کو نہایت اہم قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ وفد امریکہ کا دورہ کرے گا اور امریکی حکام سے اس معاملے پر گفتگو کرے گا۔
شہباز شریف نے پاکستان اور امریکہ کے درمیان تاریخی تجارتی تعلقات کو اجاگر کرتے ہوئے اس شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔
اسٹیئرنگ کمیٹی نے اجلاس میں امریکی ٹیرفز سے متعلق رپورٹ پیش کی، جس میں متبادل حکمتِ عملیاں بھی شامل تھیں۔ یہ بھی بتایا گیا کہ واشنگٹن ڈی سی میں پاکستانی سفارتخانہ ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ مستقل رابطے میں ہے۔
شہباز شریف نے ہدایت دی کہ وفد میں اہم کاروباری افراد اور برآمدکنندگان کو شامل کیا جائے تاکہ اس مسئلے کا مؤثر حل نکالا جا سکے۔
اجلاس میں نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، وزراء احد چیمہ، محمد اورنگزیب، علی پرویز ملک سمیت سینئر مشیران اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025