حکومت آئندہ بجٹ (2025-26) میں جوسز پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) میں 5 فیصد کمی پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے جس سے آئندہ مالی سال کے دوران ایف ای ڈی محصولات پر کم سے کم اثر پڑنے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق بجٹ ساز ادارے وزارتِ تجارت، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور دیگر متعلقہ فریقین کی تجاویز کا جائزہ لے رہے ہیں۔
فروٹ جوس کونسل نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ باضابطہ جوس انڈسٹری پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) کی شرح کو 15 فیصد تک کم کیا جائے۔ ان کے مطابق مجوزہ شرح انڈسٹری کو موجودہ بحران سے نکالنے میں مدد دے گی اور ساتھ ہی حکومت کی آمدن میں بھی اضافہ ہوگا۔
سینئر حکام کا کہنا ہے کہ انڈسٹری کی جانب سے مانگی گئی 5 فیصد کمی سمجھ میں آتی ہے کیونکہ اگر ایف ای ڈی کی شرح 15 فیصد کردی جائے تو نہ صرف انڈسٹری کی فروخت میں بہتری آئے گی بلکہ حکومت کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوگا۔
سال 2023 سے رسمی پیک شدہ جوس انڈسٹری پر عائد 20 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) — جو کہ موجودہ 18 فیصد جی ایس ٹی کے علاوہ ہے — انڈسٹری کی ترقی میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ فروخت کے حجم میں 45 فیصد کمی کے باعث مالی سال 2024-25 میں حکومت کی آمدنی کا ہدف بھی پورا نہ ہو سکا۔ فروٹ جوس کونسل، جو کہ باقاعدہ جوس انڈسٹری کی نمائندہ تنظیم ہے، مالی سال 2025-26 کے سالانہ بجٹ میں ایف ای ڈی میں 5 فیصد کمی کا مطالبہ کر رہی ہے تاکہ انڈسٹری اور حکومت دونوں کے لیے ایک فائدہ مند صورتحال پیدا ہو سکے۔
وزارتِ خزانہ کو آگاہ کیا گیا ہے کہ فروٹ بیسڈ جوسز صحت بخش متبادل ہیں اور فوڈ اتھارٹیز کی جانب سے بھی ان کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے کیونکہ ان میں پھلوں کی غذائیت شامل ہوتی ہے۔ مقامی قواعد و ضوابط کے مطابق فروٹ ڈرنکس میں کم از کم 5 فیصد، نیکٹرز میں 25 سے 50 فیصد، جبکہ خالص جوسز میں 100 فیصد پھلوں کی مقدار ہوتی ہے۔
20 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی ) کے نفاذ (جو کہ 18 فیصد جی ایس ٹی کے علاوہ ہے) کے بعد جوس انڈسٹری شدید بحران کا شکار ہو گئی۔مالی سال 2022-23 میں انڈسٹری کی فروخت 71 ارب روپے سے تجاوز کرنے کی توقع تھی، لیکن سالانہ بجٹ 2023-24 میں 20 فیصد فیڈ کے نفاذ کے بعد فروخت میں 45 فیصد کمی واقع ہوئی۔ گزشتہ ایک سال کے دوران فروخت گھٹ کر تقریباً 42 ارب روپے تک محدود ہو گئی ہے۔
کاروبار کے حجم میں کمی نے نہ صرف جوس انڈسٹری کو متاثر کیا بلکہ اس کے منفی اثرات پھل اگانے والے کسانوں اور پلپ پروسیسرز پر بھی پڑے۔ فروٹ کی خریداری کا حجم 2017 کی سطح سے بھی نیچے آ چکا ہے۔ گزشتہ سال صرف 20,233 ٹن آم خریدے گئے جب کہ 2017-18 میں یہ مقدار 31,000 ٹن تھی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025