سیکرٹری زراعت پنجاب افتخار علی سہو کی زیرِ صدارت ایگریکلچر ہاﺅس میں ٹریکٹر مینوفیکچرنگ انڈسٹری کے عہدداران کی میٹنگ ہوئی، اس موقع پرٹریکٹر سازی کی صنعت کے نمائندوں نے پنجاب حکومت کے زرعی میکانائزیشن پروگرام کی تعریف کرتے ہوئے گرین ٹریکٹر پروگرام کو مزید توسیع دینے کے لیے مختلف تجاویز پیش کیں۔
شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے افتخار علی سہو نے کہا کہ فارم میکانائزیشن کو عملی جامہ پہنانے کیلئے تمام ممکنہ وسائل و ذرائع بروئے کار لائے جا رہے ہیں، اس عمل میں ٹریکٹرز کا بنیادی کردار ہے۔
اس موقع پر ٹریکٹر انڈسٹری کے نمائندگان نے وزیراعلیٰ پنجاب کے گرین ٹریکٹر پروگرام کی تعریف کی۔ اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ٹریکٹر انڈسٹری کئی سالوں سے بحران کا سامنا کررہی ہے۔
گرین ٹریکٹر پروگرام کے آغاز سے پہلے معاشی دباؤ نے صنعت کی آپریشنل صلاحیت کو نمایاں طور پر کم کردیا تھا۔
پنجاب حکومت کے اس انوکھے اقدام نے اس بحران کو کم کرنے میں بہت مدد کی ہے۔ گرین ٹریکٹر پروگرام کے نتیجے میں زرعی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ متوقع ہے۔
اس پروگرام نے مقامی ٹریکٹر مینوفیکچرنگ انڈسٹری کو بھی اہم مدد فراہم کی ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جدید دور کے تقاضوں کے مطابق زرعی میکانائزیشن ناگزیر ہوچکی ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025