انٹربینک مارکیٹ میں بدھ کے کاروباری روز امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں 0.04 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے میں قدر 10 پیسے کم ہونے کے بعد روپیہ 279 روپے 87 پیسے پر بند ہوا۔


15 جنوری 2025 کے بعد سے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی کارکردگی


یاد رہے کہ منگل کو روپیہ 279.72 پر بند ہوا تھا۔

عالمی سطح پر بدھ کو امریکی ڈالر تین ماہ کی کم ترین سطح کے قریب رہا کیونکہ امریکہ کے تازہ ترین ٹیرف اور کینیڈا و چین کے جوابی اقدامات نے تجارتی جنگ کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔

چین کی کرنسی یوآن پچھلے سیشن میں 0.7 فیصد اضافے کے بعد آف شور ٹریڈنگ میں مستحکم رہی ۔ یہ استحکام نیشنل پیپلز کانگریس (این پی سی) کے سالانہ پارلیمانی اجلاسوں کے آغاز کے ساتھ سامنے آیا، جہاں بیجنگ نے 2025 کیلئے 5 فیصد اقتصادی ترقی کا ہدف برقرار رکھا۔

جرمنی کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے 500 ارب یورو کے انفراسٹرکچر فنڈ پر اتفاق کے بعد یورو تقریبا چار ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ اسٹرلنگ بھی تین ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب کھڑا تھا۔ خام تیل چھ ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا جبکہ بٹ کوائن نے ایک غیر مستحکم ہفتے کے بعد 87,000 ڈالر کے آس پاس اپنے قدم جما لیے۔

یورو تقریباً چار ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا کیونکہ جرمن سیاسی جماعتوں نے 500 ارب یورو کے انفرااسٹرکچر فنڈ پر اتفاق کیا۔ برطانوی پاؤنڈ بھی تین ماہ کی بلند سطح کے قریب مستحکم رہا۔ خام تیل چھ ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا، جبکہ بٹ کوائن ایک غیر مستحکم ہفتے کے بعد 87,000 ڈالر کے قریب سنبھل گیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے میکسیکو اور کینیڈا سے درآمدات پر 25 فیصد ٹیرف اور چینی اشیاء پر ڈیوٹیز کو 20 فیصد تک دُگنا کرنے کا فیصلہ منگل سے نافذ ہو گیا۔ چین اور کینیڈا نے جوابی اقدامات کیے، جبکہ میکسیکو کی صدر کلاڈیا شینبام نے بھی ردعمل دینے کا عندیہ دیا، تاہم تفصیلات نہیں بتائیں۔

امریکی ڈالر انڈیکس جو یورو، اسٹرلنگ اور دیگر چار بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں ڈالر کی قدر کو ظاہر کرتا ہے، 105.60 پر مستحکم رہا۔ یہ دو روزہ 1.9 فیصد کمی کے بعد 105.49 تک گر گیا تھا، جو 6 دسمبر کے بعد کم ترین سطح ہے۔

یورو تازہ ترین سیشن میں 13 نومبر کے بعد پہلی بار 1.0637 ڈالر تک پہنچ گیا۔