وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف نے وفاقی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ افغانستان کے ساتھ مذاکرات کے لیے خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے تجویز کردہ ٹرمز آف ریفرنس (ٹی او آرز) کی جلد از جلد منظوری دے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان ٹی او آرز کی منظوری میں مزید تاخیر سے گریز کیا جائے۔
بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت ہنگامی بنیادوں پر ایک وفد افغانستان بھیجنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ خیبر پختونخوا کے عوام کے تحفظ کو یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح اور ذمہ داری ہے۔ انہوں نے صوبے میں انسداد دہشت گردی کی کوششوں پر توجہ مرکوز کرنے کے بجائے اس طرح کے اہم مسئلے کو سیاسی رنگ دینے پر وفاقی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ وفاقی حکومت کو پنجاب اور سندھ کے وزرائے اعلیٰ کے غیر ملکی دوروں پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے ماضی کی سفارتی مصروفیات کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا کہ خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے دہشت گردی کے معاملے پر افغانستان کے ساتھ بات چیت کے اقدام میں رکاوٹ کیوں ڈالی جا رہی ہے جبکہ مریم نواز بھارت کے ساتھ ’اسموگ ڈپلومیسی‘ کر سکتی ہیں۔
انہوں نے متنبہ کیا کہ وفاقی حکومت کا دوہرا معیار صوبے کے احساس محرومی کو گہرا کر رہا ہے۔ انہوں نے وفاقی حکومت پر زور دیا کہ وہ خیبر پختونخوا کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک بند کرے، انہوں نے کہا کہ یہ صوبہ پاکستان کا اٹوٹ حصہ ہے۔
انہوں نے وفاقی حکام پر زور دیا کہ وہ خیبر پختونخوا کی شکایات کو دور کریں اور دہشت گردی کا موثر انداز میں مقابلہ کرنے کے لئے ضروری تعاون فراہم کریں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025