خام کی قیمتیں منگل کو بڑھ گئیں جس سے پچھلے سیشن کے اضافے میں اس میں مزید اضافہ ہوا، کیونکہ روس میں ایک آئل پائپ لائن پمپنگ اسٹیشن پر ڈرون حملے کے نتیجے میں قازقستان سے ترسیل میں کمی آئی۔ تاہم، سپلائی میں جلد اضافے کے امکانات کے باعث یہ بڑھوتری محدود رہی۔

برینٹ کروڈ فیوچر 15 سینٹ یا 0.2 فیصد اضافے سے 75.37 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔

یو ایس ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت جمعہ کو 67 سینٹ اضافے سے71.41 ڈالر فی بیرل پر جاپہنچے۔ پیر کو امریکی یوم صدور کی تعطیل کے باعث ڈبلیو ٹی آئی کے لیے کوئی تصفیہ نہیں ہوا۔

حال ہی میں تیل کی قیمتوں کو بڑھانے کا اہم موضوع رسد کی توقعات کے ارد گرد رہا ہے۔ آئی جی مارکیٹ اسٹریٹجسٹ یپ جون رونگ نے ایک ای میل میں کہا کہ گزشتہ ہفتوں قیمتوں میں کمی کے ساتھ روس میں قازقستان کی برآمدی پائپ لائن پر ڈرون حملے کی خبر نے کچھ مندی کے جذبات کو ختم کرنے کا محرک فراہم کیا ہے۔

روسی جنوبی کراسنودار خطے کے کروبوتکنسکایا اسٹیشن پر ڈرون حملے کے نتیجے میں قازقستان سے عالمی منڈیوں تک ہونے والی ترسیلات میں کمی آئی ہے۔

اس منصوبے سے واقف دو ذرائع نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ فروری کے لیے بلیک سی کے سی پی سی بلینڈ آئل لوڈنگ پلان میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔

آئی جی کے یاپ نے کہا کہ “تاہم، طویل مدتی فوائد محدود رہنے کا امکان ہے کیونکہ مارکیٹ اوپیک پلس اور روس کی طرف سے زیادہ رسد کی توقع کرسکتی ہے جبکہ حالیہ اقتصادی اعدادوشمار کو دیکھتے ہوئے خاص طور پر چین سے طلب کے نقطہ نظر میں بہتری اب بھی غیر یقینی ہے۔

بی ایم آئی تجزیہ کاروں نے ایک نوٹ میں کہا کہ وہ 2025 میں برینٹ کی قیمتوں کو اوسطا 76 ڈالر فی بیرل دیکھتے ہیں ، جو 2024 کے اوسط سے 5 فیصد کم ہے ، جس کی وجہ مارکیٹ کی ضرورت سے زیادہ سپلائی ، ٹیرف اور تجارتی تناؤ ہے۔

روس کے سرکاری میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق اوپیک پلس پروڈیوسر اپریل میں شروع ہونے والے ماہانہ تیل کی فراہمی میں اضافے کے سلسلے کو مؤخر کرنے پر غور نہیں کررہے ہیں۔

یاد رہے کہ دسمبر میں اوپیک نے کمزور طلب اور گروپ سے باہر بڑھتی ہوئی رسد کی وجہ سے اپریل تک پیداوار میں اضافہ کرنے کے منصوبے کو موخر کردیا تھا۔

مارکیٹس اس بات کا بھی انتظار کر رہی تھیں کہ آیا روس-یوکرین امن مذاکرات کامیاب ہوں گے، کیونکہ امریکی اور روسی حکام منگل کو سعودی عرب میں مذاکرات کے لیے ملاقات کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ خام تیل کے بازار میں مندی کے لیے بہت کچھ نظر آ رہا ہے، سب سے بڑا عامل اب یوکرین کے مذاکرات کا نتیجہ ہے۔“