ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹڈاپ) کی بھرپور کوششوں سے متحدہ عرب امارات میں ہونے والی تجارتی نمائش میں شرکت کے خواہشمند تاجروں کے ویزہ مسائل حل ہوگئے ہیں ۔
یہ بات ٹڈاپ کے چیف ایگزیکٹو فیض احمد چدھڑ نے لاہور چیمبرمیں خطاب کے دوران بتائی۔اس موقع پر لاہور چیمبر کے صدر میاں ابوزر شاد، نائب صدر شاہد نذیر چودھری، ٹڈاپ کی ڈی جی رافعہ سید اور ایگزیکٹو کمیٹی اراکین احسن شاہد، سید سلمان علی، کرامت علی اعوان، شعبان اختر، وقاص اسلم، عرفان قریشی اور آصف ملک موجود تھے۔
فیض احمد چدھڑ نے بتایا کہ ٹڈاپ نے کامیابی سے سعودی عرب میں تجارتی نمائش منعقد کی جبکہ جلد ایتھوپیا میں بھی نمائش منعقد کی جائے گی۔ انہوں نے لاہور چیمبر کے ممبران پر زور دیا کہ وہ ان اقدامات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ تجارتی سفارتکاری کو فروغ دینے کے لئے بیرون ملک تعینات کمرشل قونصلرز اور قونصل جنرلز کا عہدہ اب ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ آفیسرز میں تبدیل کردیاگیا ہے، ان کی کارکردگی کا ہر تین ماہ بعد جائزہ لیا جائے گا، نااہل افسران کو نوٹس جاری کیے جائیں گے اور ضرورت پڑنے پر انہیں واپس بلایا جاسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ویلیوایڈیشن پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ، پاکستان آم اور امرود کی پیداوار میں سرفہرست ممالک میں شامل مگر پراسیسنگ کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھاسکا، پاکستان میں صرف دو مینگو پلپ پراسیسنگ پلانٹس موجود ہیں۔
انہوں نے غیر روایتی برآمدی شعبوں کے فروغ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ٹڈاپ نے ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ کا 10 فیصد حصہ ایس ایم ایز اور 10 فیصد وومن انٹرینیورز کے لیے مختص کر دیا ہے،انہوں نے ایس ایم ای سیکٹر سے ابھرنے والے عالمی سطح پر کامیاب برانڈز کی مثالیں پیش کیں ۔
فیض احمد نے کہا کہ مستحکم اور متوقع تجارتی پالیسیاں کاروباری اداروں کو طویل مدتی ترقی کے لئے منصوبہ بندی کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اعلی صنعتی پیداواری لاگت برآمدات میں اضافے کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے اور انہوں نے ان اخراجات کو کم کرنے کے لئے اقدامات پر زور دیا۔
انہوں نے پاکستان کے وسیع اور غیر استعمال شدہ معدنیات اور دھاتی وسائل کے بارے میں بھی بھرپور انداز میں بات کی، جنہیں مکمل طور پر استعمال کیا جائے تو یہ اربوں ڈالر کا زرمبادلہ پیدا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے لاہور چیمبرکے ارکان کو یقین دلایا کہ ٹڈاپ آئندہ بجٹ میں مقامی یارن پر زیرو ریٹنگ کی سہولت کو بحال کرنے کے لیے فعال طور پر کام کر رہا ہے تاکہ ٹیکسٹائل کی برآمدات کو فروغ دیا جا سکے۔
لاہور چیمبر کے صدر میاں ابوزر شاد نے کہا کہ بہترین مارکیٹنگ حکمت عملی برآمدات میں اضافے کی کلید ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ خام مال برآمد کرنے کے بجائے ویلیوایڈیشن کرے ،خام مال کی برآمدات سے قومی معیشت کو سالانہ اربوں ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان انتہائی کم نرخوں پر بھارت کو نمک برآمد کرتا ہے جسے بھارت پراسیس کرکے اربوں ڈالر کمارہا ہے۔ اسی طرح جپسم صرف 17 ڈالر فی ٹن کے حساب سے بھارت بھیجا جاتا ہے جبکہ اس کی ترسیلی لاگت ہی15 ڈالر فی ٹن ہوتی ہے۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ یا تو جپسم کی برآمدات پر پابندی عائد کی جائے یا مناسب منافع کو یقینی بنانے کے لئے کم از کم قیمت 50 ڈالر فی ٹن مقرر کی جائے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025