گزشتہ چند سالوں کے دوران پاکستان پر ماحولیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی مسائل کے اثرات میں اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان نے کئی بار انتہائی زیادہ درجہ حرارت اور زیادہ بارشوں کا سامنا کیا ہے۔ 2022 میں پاکستان کو صدی میں ایک بار آنے والے سیلاب کا سامنا رہا جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصانات ہوئے۔

2023 میں پاکستان کو دنیا کے ان چار ممالک میں شامل کیا گیا تھا جن کا فضائی معیار انتہائی حدتک خراب رہا۔ 2024 میں لاہور کو موسم سرما میں دنیا کا آلودہ ترین شہر قرار دیا گیا۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق اگرچہ پاکستان عالمی سطح پر فضائی آلودگی کا ایک فیصد سے بھی کم کا ذمہ دار ہے لیکن پاکستانی عوام کو ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے موت کا خطرہ عالمی اوسط سے 15 گنا زیادہ ہے۔ بار بار آنے والے انتہائی موسمی حالات، زیادہ درجہ حرارت، خشک سالی، پانی کی کمی، فضائی آلودگی اور دیگر مسائل نے پاکستان کی زرعی پیداوار، فوڈ سیفٹی، پیداواری صلاحیت اور عوام کی روزمرہ زندگی کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔

حکومت پاکستان ان چیلنجز سے نمٹنے کے لئے مستعدی سے اقدامات کر رہی ہے۔ مثال کے طور پر پنجاب حکومت نے لاہور میں اسموگ سے نمٹنے کے لیے سرحد پار تعاون پر زور دیتے ہوئے بھرپور پالیسیاں، ایکشن پلان تیار کیے ہیں اور نئی ٹیکنالوجیز متعارف کرائی ہیں۔

اس عمل کے دوران چین نے پنجاب کو ہر ممکن مدد فراہم کی ہے جس میں ماحولیاتی ماہرین کی ایک ٹیم کو سائٹ پر تحقیق کرنے اور پالیسی سفارشات پیش کرنے کے لئے لاہور بھیجنا شامل ہے۔ چینی کمپنیوں کو صوبے میں فضائی معیار کی نگرانی کے اسٹیشن بنانے کے لیے مدعو کیا گیا۔

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے چین کے پہلے سرکاری دورے کے دوران چین کے وزیر ماحولیات ہوانگ رنکیو اور وزیراعلیٰ کے درمیان ایک خصوصی ملاقات کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں دونوں فریقین نے فضائی آلودگی کی روک تھام اور کنٹرول، نئی توانائی کی صنعتوں اور گرین لو کاربن کی پیشرفت پر اتفاق کیا تھا۔

موسمیاتی تبدیلی سے متعلق اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن کے پہلے معاہدے کرنے والے فریقوں میں سے ایک اور پیرس معاہدے پر دستخط کرنے والے سرکردہ ممالک میں سے ایک کی حیثیت سے ، چین ہمیشہ حقیقی کثیر الجہتی ، اور ”مشترکہ لیکن امتیازی ذمہ داریوں“ کے اصول پر عمل پیرا ہے۔

کوپ 29 کانفرنس کے دوران چین نے ماحولیاتی تبدیلی سے مطابقت کے لیے ارلی وارننگ فار کلائمٹ ایڈپٹیشن پلان (2025-2027) کا اعلان کیا جس میں ترقی پذیر ممالک کے ساتھ ٹیکنالوجیز شیئر کرنے اور مشترکہ طور پر ماحولیاتی خطرات کی نگرانی اور انتباہ کے لیے ایک پلیٹ فارم بنانے کا عہد کیا گیا۔

اس ایکشن پلان کے تحت جلد ہی پاکستان میں اپنی مرضی کے مطابق کلاؤڈ بیسڈ ارلی وارننگ سسٹم لانچ کیا جائے گا جو قدرتی آفات کی روک تھام، اس میں کمی اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی صلاحیتوں میں موثر اضافہ کرے گا۔

پاکستان کے اچھے ہمسایہ، قریبی دوست، آئرن برادر اور قابل اعتماد پارٹنر کی حیثیت سے چین کا خیال ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی چیلنجز پر تعاون دونوں ممالک کے لیے ناگزیر ہے۔

اس تعاون سے سماجی و اقتصادی اور ماحولیاتی پائیدار ترقی کو فروغ دینے، صنعتوں کو گرین انرجی میں تبدیل کرنے، لوگوں کے ذریعہ معاش کو بہتر بنانے اور قدرتی آفات کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔ یہ تعاون چین پاکستان اقتصادی راہداری کی اعلیٰ معیار کی ترقی، رابطوں میں اضافے، ماحولیاتی مطابقت کو بہتر بنانے اور علاقائی امن و استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے بھی سازگار ہے۔

چین اور پاکستان کا تعاون عالمی موسمیاتی گورننس کو بہتر بنانے، عالمی برادری اور خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کے لئے پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول میں مدد دے سکتا ہے۔

موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی مسائل سے نمٹنے میں چین اور پاکستان کے درمیان تعاون ایک ٹھوس بنیاد اور وسیع امکانات رکھتا ہے۔

چین نے ایک مضبوط ”1 +این“ دوہری کاربن پالیسی کا نظام قائم کیا ہے، توانائی کے ڈھانچے کو بہتر بنایا ہے اور گزشتہ 20 سالوں میں عالمی سبز علاقے کا تقریبا ایک چوتھائی حصہ ڈالا ہے ، جس میں جنگلات کا ذخیرہ 19.493 بلین مکعب میٹر تک پہنچ گیا ہے۔

موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی خطرات سے نمٹنے کے لئے چین کی مہارت، ٹیکنالوجی اور عزم کو بین الاقوامی برادری نے وسیع پیمانے پر تسلیم کیا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ تجربات پاکستان کی پالیسی سازی، صنعتی ڈھانچے کی ایڈجسٹمنٹ، توانائی کی تبدیلی، موسمیاتی تعلیم سے متعلق کارآمد سفارشات فراہم کریں گے۔

مجھے یقین ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیات کے حوالے سے چین اور پاکستان کا تعاون دیگر ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک مثال قائم کر سکتا ہے تاکہ وہ عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مزید ٹھوس کوششیں کر سکیں اور ہماری آنے والی نسلوں کے لیے ایک بہتر مستقبل تخلیق کر سکیں۔

مجھے یقین کرتا ہوں کہ یہ تعاون ترقی یافتہ ممالک کے لئے ایک سبق اور یاد دہانی کے طور پر بھی کام کرسکتا ہے تاکہ وہ اپنی اخراج کی تاریخ کا جائزہ لیں، زیادہ ذمہ داریاں سنبھالیں اور ترقی پذیر ممالک سے کیے گئے موسمیاتی فنانسنگ کے وعدوں کو پورا کریں، گرین ٹیک رکاوٹوں کو توڑیں اور ترقی پذیر ممالک کو انسانیت کو درپیش اس موجود خطرے کا مقابلہ کرنے کے لئے تکنیکی مدد اور صلاحیت سازی کو بااختیار بنائیں۔

Zhao Shiren

The writer is Consul General of the P.R. China in Lahore