تیسرا ٹیسٹ: نعمان ،ساجد کی تباہ کن بالنگ کی بدولت پاکستان نے انگلینڈ کو ہراکر سیریز جیت لی
پاکستان نے نعمان علی اور ساجد خان کی جادوئی اسپن گیند بازی کی بدولت انگلینڈ کو تیسرے ٹیسٹ میں 9 وکٹوں سے شکست دے کر 3 میچز کی سیریز میں یادگار فتح حاصل کرلی۔
راولپنڈی میں کھیلے جانے والے تیسرے ٹیسٹ میچ کے تیسرے روز نعمان اور ساجد کی شاندار بالنگ کی بدولت بدولت مہمان ٹیم 112 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔
کپتان شان مسعود نے شعیب بشیر کی 6 گیندوں پر 4 چوکے ایک اور چھکا لگاکر فتح حاصل کی جو فروری 2021 میں جنوبی افریقہ کو شکست دینے کے بعد ہوم سیریز میں گرین شرٹس کی پہلی فتح ہے۔
پاکستان کی جانب سے یہ فتح ایک انتقامی اقدام تصور کیا جارہا ہے جسے دو برس قبل انگلینڈ نے وائٹ واش کیا تھا۔
آسٹریلیا کیخلاف 3 صفر اور بنگلہ دیش کے ہاتھوں 2 صفر کی شکست کے بعد حالیہ فتح پر شان مسعود نے کہا کہ ہم اسے پاکستان کے عوام کے نام کرنا چاہتے ہیں جنہوں نے بہت کچھ برداشت کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امید ہے کہ اس سے لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ آئے گی اور امید ہے کہ آئندہ میچز کے دوران اسٹیڈیم شائقین سے بھرے ہوں گے۔
ملتان میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میں انگلینڈ نے میزبان ٹیم کو ایک اننگز اور 47 رنز سے شکست دے دی تھی جس کے بعد سیریز میں فتح ناممکن دکھائی دے رہے تھی۔
اس کے بعد سپر اسٹار بابر اعظم اور شاہین شاہ آفریدی کے ساتھ ساتھ فاسٹ بولر نسیم شاہ کو بھی حیران کن طور پر باہر کردیا گیا۔
متبادل کھلاڑی نومان اور ساجد نے سیریز کی کایا پلٹ دی، دونوں نے مل کر اگلے دو ٹیسٹ میچز میں 39 وکٹیں حاصل کیں۔
پاکستان نے دوسرا میچ بھی ملتان میں 152 رنز سے جیتا جو ملتان میں ہی ہوا تھا جس پر اسپنرز کو مدد حاصل تھی۔
انہوں نے کہا کہ پہلی فتح طویل عرصے کے بعد حاصل ہوئی اس کے بعد سیریز جیتنا خاص بات ہے۔
شان مسعود نے کہا کہ ٹیم کے تمام کھلاڑیوں کی جانب سے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنا بہت معنیٰ رکھتا ہے۔
کپتان نے کہا کہ یہ کھلاڑیوں کے کردار کے بارے میں ہے، فاتح ٹیم کے طور پر کھڑا ہونا ہمارے لئے سب سے خاص بات ہے۔
انگلینڈ نے تیسرے روز کھیل کا آغاز 3 وکٹوں کے نقصان پر 24 رنز سے کیا تھا جو ایک مشکل صورتحال تھی، تاہم اننگز میں نعمان نے 42 رنز دے کر 6 اور ساجد نے 69 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کیں۔
بین اسٹوکس کی ٹیم کے لیے صورتحال مزید خراب ہوئی اور وہ 37.2 اوورز میں پاکستان میں اپنے سب سے کم اسکور پر آؤٹ ہوگئی۔
اس سے قبل 1987 میں لاہور میں انگلینڈ نے 130 رنز بنائے تھے۔
’مایوس کن‘
جو روٹ نے اپنی دوسری اننگز میں سب سے زیادہ 33 رنز بنائے جبکہ انگلینڈ کا کوئی بھی بلے باز زیادہ دیر تک پاکستان کیخلاف مزاحمت نہ کرسکا۔
اسٹوکس نے کہا کہ یہ مایوس کن ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو میچوں میں ہمیں کچھ چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا اور ہم ان کا مقابلہ کرنے میں ناکام رہے۔
بین اسٹوکس کے مطابق اس جیت کا سہرا پاکستان کو جاتا ہے۔
انگلینڈ کی امید اس وقت ختم ہوگئی جب نعمان نے ہیری بروک کو 26 رنز پر محمد رضوان کے ہاتھوں آؤٹ کیا اور اسٹوکس کو تین رنز پر آؤٹ کیا۔
انگلینڈ کے کپتان ایک بار پھر عجیب و غریب انداز میں آؤٹ ہوئے کیوں کہ وہ نعمان کی گیند پر اسٹروک کھیلنا نہیں چاہتے تھے، بین اسٹوکس کا خیال تھا کہ گیند لیگ اسٹمپس سے باہر جارہی ہے تاہم گیند وکٹوں پر آ لگی۔
ہیمسٹرنگ انجری کی وجہ سے پہلے ٹیسٹ میچ سے باہر رہنے والے اسٹوکس چار اننگز میں صرف 53 رنز ہی بنا سکے تھے۔
ساجد خان نے 75 رنز پر جمی اسمتھ کو آؤٹ کرکے انگلینڈ کو چھٹا نقصان پہنچایا، جمی اسمتھ ساجد خان کو چھکا مارنے کی کوشش میں بولڈ ہوگئے۔
نعمان نے اپنی تیز ٹرن ہوتی گیند پر رضوان کے ہاتھوں جو روٹ کو کیچ آؤٹ کرواکر چھٹی بار پانچ وکٹیں مکمل کیں جس سے انگلینڈ کی جانب سے میچ میں واپسی کی تمام تر امیدیں دم توڑ گئیں۔
ساجد نے ریحان احمد کو سات رنز پر آؤٹ کیا جبکہ نعمان نے جیک لیچ کو 10 رنز پر آؤٹ کرکے اننگز کا اختتام کیا۔
اس کے بعد بقیہ میچ محض ایک رسمی کارروائی تھی۔
ہدف کے تعاقب میں پاکستان کو اس وقت معمولی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جب اوپنر صائم ایوب 8 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے تاہم شان مسعود کی 6 گیندوں پر 23 رنز کی شاندار اننگز نے فاتح میزبان ٹیم کو سیریز میں فتح دلا دی۔