خام تیل کی قیمتوں میں استحکام، مشرق وسطیٰ تنازعہ سے متعلق غیر یقینی صورتحال برقرا
اوپیک پلس کی جانب سے پیداور میں کمی اور مشرق وسطیٰ کے تنازعہ سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے سبب بدھ کے روز تیل کی قیمتوں میں استحکام دیکھا گیا ہے جبکہ آئندہ برس فراہمی بڑھنے کی پیشگوئیوں نے قیمتوں پر کمی کیلئے دباؤ ڈالا ہے۔
منگل کے روز طلب میں کمی کے نتیجے میں خام تیل کی قیمت تقریبا دو ہفتوں کی کم ترین سطح پر آ گئی تھی اور ایک میڈیا رپورٹ میں کہا گیا کہ اسرائیل ایرانی جوہری اور تیل کے مقامات پر حملہ نہیں کرے گا جس سے رسد میں خلل پڑنے کا خدشہ کم ہو گیا ہے۔
برینٹ خام تیل کی قیمت 33 سینٹ یا 0.4 فیصد کی کمی کے ساتھ 73.92 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی۔ یو ایس ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کے سودے 38 سینٹ یا 0.5 فیصد کی کمی سے 70.20 ڈالر پر بند ہوئے۔
اس کے باوجود اسرائیل اور ایران کے حمایت یافتہ عسکریت پسند گروپ حزب اللہ کے درمیان تنازعہ میں اضافے کے بارے میں تشویش برقرار ہے۔ اوپیک پلس کی سپلائی پر پابندیاں دسمبر تک برقرار رہیں گی جب کچھ رکن ممالک کٹوتی کی ایک پرت ختم کرنا شروع کریں گے۔
جولیس بیئر سے تعلق رکھنے والے نوربرٹ روکر کا کہنا ہے کہ اگر جیو پولیٹیکل رسک پریمیم فی الحال غائب ہو گیا ہے تو ہمیں کسی حد تک حیرت ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ مارکیٹ 2025 تک سپلائی سرپلس کی طرف بڑھ رہی ہے۔
طلب کے لحاظ سے تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اور انٹرنیشنل انرجی ایجنسی نے رواں ہفتے 2024 ء میں تیل کی عالمی طلب میں اضافے کی پیش گوئیوں میں کمی کی ہے۔
چین میں معاشی محرکات تیل کی قیمتوں کی زیادہ کرنے میں ناکام رہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق چین تین سال کے دوران خصوصی ٹریژری بانڈز سے مزید 6 ٹریلین یوآن (850 ارب ڈالر) حاصل کر سکتا ہے تاکہ گرتی ہوئی معیشت کو متحرک کیا جا سکے۔
آئل بروکر پی وی ایم سے وابستہ تامس ورگا نے کہا کہ چینی معیشت کی بحالی کے لیے مالیاتی کوششیں ناکام ثابت ہو رہی ہیں۔