خام تیل کی قیمتیں منگل کو 4 فیصد سے زیادہ گرکر تقریباً 2 ہفتوں کی کم ترین سطح پر آگئیں جس کی وجہ طلب میں کمی جب کہ ایک میڈیا رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل ایرانی تیل کے اہداف کو نشانہ نہیں بنانا چاہتا ہے، جس سے رسد میں خلل پڑنے کا خدشہ کم ہو گیا ہے۔
برینٹ کروڈ فیوچر 3.51 ڈالر یا 4.5 فیصد کی کمی سے 73.95 ڈالر فی بیرل پر آگیا جو 2 اکتوبر کے بعد کی کم ترین سطح ہے۔
ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ فیوچر 3.48 ڈالر یا 4.7 فیصد کمی کے ساتھ 70.35 ڈالر فی بیرل پر بند ہوا۔ دونوں بینچ مارک پیر کو تقریبا 2 فیصد کی کمی کے ساتھ بند ہوئے تھے۔
رواں ہفتے اب تک تیل کی قیمتوں میں 5 ڈالر کی کمی واقع ہوئی ہے جس سے مجموعی طور پر حاصل ہونے والے منافع کا تقریبا خاتمہ ہو گیا ہے کیونکہ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اسرائیل یکم اکتوبر کو ہونے والے میزائل حملے کا بدلہ لینے کے لیے ایران کی تیل تنصیبات پر حملہ کرسکتا ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے امریکہ کو بتایا ہے کہ اسرائیل جوہری یا تیل کے اہداف کو نشانہ بنانے کے بجائے ایرانی فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے تیار ہے۔
اسرائیل نے پیر کو حزب اللہ کے خلاف جنگ میں اپنے اہداف میں اضافہ کیا، جس میں شمال میں ایک فضائی حملے میں کم از کم 21 افراد مارے گئے۔
فلپ نووا کی سینئر مارکیٹ تجزیہ کار پرینکا سچدیوا نے کہا کہ کمزور مانگ کی وجہ سے تاجروں نے قیمتوں سے ’وار پریمیم‘ واپس لے لیا ہے۔
تاہم جغرافیائی سیاست اب بھی اس سطح پر تیل کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔ جغرافیائی سیاست کے بغیر تیل کی قیمت مزید گر سکتی تھی، شاید موجودہ کمزور ہوتی طلب کے بیانیے کے درمیان 70 ڈالر فی بیرل سے بھی نیچے۔
تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم (اوپیک) اور انٹرنیشنل انرجی ایجنسی (آئی ای اے) دونوں نے اس ہفتے 2024 میں عالمی سطح پر تیل کی طلب میں اضافے کے بارے میں اپنی پیش گوئیوں میں کمی کی ہے۔
اوپیک نے آئی ای اے کے مقابلے میں سال کے لئے عالمی طلب میں کہیں زیادہ مضبوط توسیع کی پیش گوئی کی ہے۔
آئل بروکر پی وی ایم سے وابستہ جان ایونز کا کہنا ہے کہ ’کم ایڈجسٹمنٹ کا عمل خواہش مند سوچ کا اعتراف ہے۔
رائٹرز کے ایک سروے کے مطابق چین کے کسٹمز کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ ستمبر میں تیل کی درآمدات میں ایک سال پہلے کے مقابلے میں کمی آئی ہے ، اور ملک کی اقتصادی ترقی 2024 کے لئے بیجنگ کے ہدف کو بھی کم کرنے کا امکان ہے۔