جمعے کو مسلسل تیسرے روز بھی تیل کی قیمتوں میں کمی سلسلہ جارہ رہا کیونکہ سرمایہ کاروں کی توجہ لیبیا اور وسیع تر اوپیک پلس گروپ سے پیداوار میں اضافے کی توقعات پر مرکوز تھی۔
برینٹ کروڈ فیوچر 20 سینٹ یا 0.28 فیصد کی کمی سے 71.40 ڈالر فی بیرل پر آگیا جبکہ یو ایس ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کروڈ فیوچر 14 سینٹ یا 0.21 فیصد کی کمی سے 67.53 ڈالر فی بیرل پر آگیا۔
ہفتہ وار بنیاد پر برینٹ کروڈ کی قیمت میں 4 فیصد کمی متوقع ہے جبکہ ڈبلیو ٹی آئی 6 فیصد کمی کی راہ پر گامزن ہے۔
فلپ نووا کی سینئر مارکیٹ تجزیہ کار پرینکا سچدیوا نے کہا کہ اگرچہ چینی حکام کی جانب سے حوصلہ افزا اقدامات کے بعد سرمایہ کاروں نے اعتماد کا اظہار کیا، لیکن تیل کی منڈیوںکی توجہ اس ہفتے لیبیا اور اوپیک پر مرکوز رہی ہیں۔
سچدیوا نے کہا، ”اوپیک پلس کی جانب سے پیداوار بڑھانے کے حالیہ فیصلے نے مایوسی میں مزید اضافہ کیا ہے،“ کیونکہ تیل کی مارکیٹ پچھلے کچھ مہینوں سے کمزور طلب سے نبردآزما ہے۔
“اگرچہ یہ غیر یقینی ہے کہ آیا چینی اقدام ایندھن کی طلب بڑھا دیگا ، لیکن اس سے تیل کی مارکیٹ کو کچھ ریلیف مل سکتا ہے۔
چین کے مرکزی بینک نے جمعہ کے روز شرح سود میں کمی کی اور بینکاری نظام میں لیکویڈیٹی کو شامل کیا کیونکہ بیجنگ نے معاشی ترقی کو اس سال کے تقریبا 5 فیصد ہدف کی طرف واپس لانے اور افراط زر کے دباؤ سے لڑنے کے لئے اقدامات میں اضافہ کیا ہے۔
دریں اثنا، لیبیا کے مرکزی بینک کے کنٹرول کا دعویٰ کرنے والے حریف دھڑوں نے جمعرات کو اپنے تنازعے کو ختم کرنے کے لئے ایک معاہدے پر دستخط کیے۔
اس تنازع کی وجہ سے ملک میں تیل کی پیداوار اور برآمدات میں تیزی سے کمی واقع ہوئی تھی اور خام تیل کی برآمدات گزشتہ ماہ کے 10 لاکھ بیرل سے کم ہو کر رواں ماہ 4 لاکھ بیرل یومیہ رہ گئی تھیں۔
اے این زیڈ بینک کے تجزیہ کار ڈینیئل ہینس نے کہا کہ اس معاہدے سے لیبیا کی پانچ لاکھ بیرل یومیہ سے زائد رسد مارکیٹوں میں واپس آسکتی ہے۔
اس کے علاوہ تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم (اوپیک) اور اس کے اتحادی، جسے اوپیک پلس کے نام سے جانا جاتا ہے، اس وقت تیل کی پیداوار میں مجموعی طور پر 5.86 ملین بیرل کی کمی کر رہے ہیں لیکن دسمبر میں ان کٹوتیوں میں سے 180،000 بی پی ڈی کو واپس لانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
بدھ کے روز ایک میڈیا رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پہلے اعلان کردہ تبدیلی کی وجہ سعودی عرب کی جانب سے تیل کی قیمتوں کا 100 ڈالر کا ہدف ترک کرنے اور مارکیٹ شیئر حاصل کرنے کا فیصلہ ہے جس کی وجہ سے گزشتہ سیشن میں تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد کمی واقع ہوئی تھی۔
اوپیک پلس کے اصل رہنما سعودی عرب نے تیل کی ایک خاص قیمت کو ہدف بنانے کی بار بار تردید کی ہے ، اور گروپ کے ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ دسمبر میں پیداوار میں اضافے کا منصوبہ موجودہ پالیسی سے کسی بڑی تبدیلی کی نمائندگی نہیں کرتا ہے۔