ایک ارب ڈالر کے بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے باوجود اسٹیٹ بینک گزشتہ ہفتے کے آخر تک اپنے زرمبادلہ کے ذخائر 8 ارب ڈالر کی سطح سے اوپر رکھنے میں کامیاب رہا۔
جمعرات کو جاری ہونے والی ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق اسٹیٹ بینک کے ذخائر 5 اپریل کے 8.04 بلین ڈالر کے مقابلے میں 12 اپریل تک 14.4 ملین ڈالر بڑھ کر 8.055 بلین ڈالر ہو گئے۔
پاکستان نے 2014 میں شروع کیے گئے اور اپریل 2024 میں میچور ہونے والے 10 سالہ یورو بانڈ کی مد میں 12 اپریل کو 1 بلین ڈالر (بشمول اصل اور سود) کے غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی کی ہے۔
گزشتہ 22 ماہ کے دوران مارچ میں سب سے زیادہ ترسیلات زر ہوئیں، بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے مارچ کے دوران 3 ارب ڈالر ملک بھیجے گئے جو کہ مارچ 2024 میں بھیجے گئے 2.25 ارب ڈالر سے 31 فیصد زیادہ ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان کا تجارتی خسارہ رواں مالی سال کے پہلے آٹھ ماہ میں 30 فیصد کم ہو کر 13.54 بلین ڈالر رہ گیا ہے۔
گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے واشنگٹن ڈی سی میں سرمایہ کاروں کے ساتھ ایک میٹنگ میں یہ بھی انکشاف کیا کہ یورو بانڈ کی مد میں ایک ارب ڈالر کی ادائیگی کے باوجود بیرونی کھاتوں میں بہتری کی بدولت اسٹیٹ بینک اپنے زرمبادلہ کے ذخائر 3.1 بلین ڈالر (جنوری 2023) سے 12 اپریل تک تقریباً 8 بلین ڈالر کرنے میں کامیاب رہا ہے۔
یورو بانڈ کی اس موجودہ ادائیگی سے بین الاقوامی منڈیوں میں یورو بانڈز اور سکوک کی فروخت کے ذریعے حاصل کیے گئے بیرونی قرضوں کا حجم ارب ڈالر سے کم ہوگیا ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر کے بحران کا سامنا کرنے کے باوجود پاکستان نے رواں مالی سال کے دوران 2 ارب ڈالر مالیت کے یورو بانڈ کی دو ادائیگیاں کیں۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق، گزشتہ ہفتے کے دوران کمرشل بینکوں کے پاس موجود زرمبادلہ کے خالص ذخائر 82.4 ملین ڈالر کم ہو کر 5.319 بلین ڈالر رہ گئے۔
مجموعی طور پر پاکستان کے پاس موجود کل مائع غیر ملکی ذخائر 5 اپریل 2024 تک 13.442 بلین ڈالر کے مقابلے میں 12 اپریل 2024 تک 13.374 بلین ڈالر رہے، جو کہ 68 ملین ڈالر کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔
پاکستان زرمبادلہ کے بحران سے نکلنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے اور اپریل میں آئی ایم ایف کے 3 بلین ڈالر کے اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ پروگرام مکمل ہونے پر حکومتی عہدیداروں نے طویل مدتی پروگرام کے لیے آئی ایم ایف سے بات چیت شروع کر دی ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب جو اس وقت ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے 2024 کے موسم بہار کے اجلاس میں شرکت کے لیے واشنگٹن میں ہیں، نے ایک انٹرویو میں کہا کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کے ساتھ ملٹی بلین ڈالر کے قرضے کے نئے معاہدے پر بات چیت شروع کر دی ہے تاکہ معاشی اصلاحات کامیابی سے مکمل کی جاسکیں۔