انٹر بینک مارکیٹ میں ٹریڈنگ کے ابتدائی اوقات کے دوران ڈالرکے مقابلے روپے کی قدر میں0.01 فیصدکا معمولی اضافہ دیکھا گیا۔

کاروباری ہفتے کے تیسرے روز بدھ کو صبح ساڑھے دس بجے روپیہ 4پیسے کی بہتری سے 277.80روپے پر ٹریڈ کرتادکھائی دیا۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق پیر کو ڈالر 10پیسے کی کمی سے277.84روپے پر بند ہوا تھا۔

علاوہ ازیں اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق چار سال کے وقفے کے بعد، یکم مارچ سے 22 مارچ کے درمیان ٹی بلز میں 82 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی جبکہ جنوری 2024 سے اب تک یہ رقم 126 ملین ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔

ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے معروف تجزیہ کار اور سی ای او محمد سہیل نے کہا کہ زیادہ شرح سود والے ممالک میں کیری ٹریڈنگ عام بات ہے،لیکن پاکستان میں سیاسی غیر یقینی اور غیر مستحکم کرنسی سرمایہ کاروں کیلئے رکاوٹ تھی۔

عالمی سطح پر ڈالر بدھ کے روز فرنٹ فٹ پر رہا جس نے ین کو اپنی دہائیوں کی کم ترین سطح کے قریب پہنچادیا، حالانکہ ٹوکیو کی طرف سے کرنسی کی مداخلت کے بڑھتے ہوئے خطرے نے جاپانی کرنسی میں مزید کمی کو محدود کر دیاہے۔

امریکی ڈالر نے منگل کو 105.10 کی تقریباً پانچ ماہ کی بلند ترین سطح کو چھو لیا، آخری مرتبہ 104.78 پر مستحکم رہا تھا۔

ادھرعالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا۔ امریکی تیل کی ذخائر میں متوقع کمی اور خطے میں تناو بڑھنے کی وجہ سے سرمایہ کاروں کی تشویش میں اضافہ ہوگیا ہے۔جون کے لیے برینٹ آئل 20 سینٹ یا 0.22 فیصد بڑھ کر 89.12 ڈالر فی بیرل ہو گیا، جبکہ مئی کے لیے کروڈ آئل 17 سینٹ، یا تقریباً 0.2 فیصد بڑھ کر 85.32 ڈالر فی بیرل ہو گیا۔

برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی دونوں گزشتہ روز اکتوبر کے بعد اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے تھے۔