چار برس بعد ٹی بلز میں سرمایہ کاری میں اضافہ
ماہرین نے کہا ہے کہ بلند شرح سود اور مستحکم پاکستانی روپے کے ساتھ اب غیر ملکی سرمایہ کار مقامی ٹی بلز میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔
سٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق چار سال کے وقفے کے بعد، یکم مارچ سے 22 مارچ کے درمیان ٹی بلز میں 82 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی جبکہ جنوری 2024 سے اب تک یہ رقم 126 ملین ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔
ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے معروف تجزیہ کار اور سی ای او محمد سہیل نے کہا کہ زیادہ شرح سود والے ممالک میں کیری ٹریڈنگ عام بات ہے،لیکن پاکستان میں سیاسی غیر یقینی اور غیر مستحکم کرنسی سرمایہ کاروں کیلئے رکاوٹ تھی۔
یاد رہے کہ مالی سال 20 میں پاکستان کو ٹی بلز کی مد میں 612 ملین ڈالرحاصل ہوئے تھے اور یہ سرمایہ کاری جنوری 2020 میں 1.4 ارب ڈالر کی بلند سطح پر جاپہنچی تھی۔
محمد سہیل کے مطابق ایک بار جب پاکستان کو آئی ایم ایف کا نیا طویل مدتی معاہدہ مل جاتا ہے، تو اس بات کے امکانات بہت زیادہ ہیں کہ اس طرح کے مزید فنڈز پاکستان آئیں گے جس سے پاکستان کے زر مبادلہ کے ذخائر اور روپے کی قدر مستحکم رکھنے میں مدد ملے گی۔