مقامی حکام کے مطابق روسی حملے میں یوکرین کے شہر کریوی ریح میں کم از کم 19 افراد ہلاک ہوگئے جن میں 9 بچے بھی شامل ہیں۔ روس کے وزارت دفاع نے کہا کہ اس نے ایک فوجی ٹھکانے کو ہدف بنایا ہے

یوکرینی فوج نے روس کے بیان کو غلط معلومات قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کر دیا۔

علاقائی گورنر سرہی لیساک نے ٹیلی گرام میسجنگ ایپ پر لکھا کہ ایک میزائل نے رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 18 افراد ہلاک اور آگ بھڑک اٹھی۔ شہر کے ملٹری ایڈمنسٹریٹر اولیکسندر ولکول نے بتایا کہ بعد ازاں روسی ڈرون طیاروں نے گھروں پر حملہ کیا اور ایک شخص کو ہلاک کر دیا۔

آن لائن پوسٹ کی جانے والی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مرنے والوں اور زخمیوں کی لاشیں فٹ پاتھ پر پڑی ہوئی ہیں جبکہ آسمان پر دھواں اٹھ رہا ہے۔

روس کے وزارت دفاع نے ٹیلی گرام پر ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ ایک ریسٹوران میں یونٹ کمانڈرزاور مغربی انسٹرکٹرز کی ایک میٹنگ کو نشانہ بنایا گیا ہے ۔

وزارت دفاع نے کہا کہ حملے کے نتیجے میں حملے کے نتیجے میں دشمن کے 85 فوجی اہلکار اور غیر ملکی افسران ہلاک ہوئے، ساتھ ہی 20 سے زائد گاڑیاں بھی تباہ ہوئیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جو جنوری میں عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ وعدہ کر چکے تھے کہ وہ 24 گھنٹوں میں جنگ کو ختم کر دیں گے، نے اس تنازعے کا خاتمہ کرانے کی کوشش کی ہے۔ امریکہ نے پچھلے ہفتے کہا تھا کہ اس نے روس اور یوکرین کے ساتھ دو جنگ بندی معاہدوں پر اتفاق کیا ہے، جن میں سے ایک معاہدہ ایک دوسرے کی توانائی کے انفرااسٹرکچر پر حملوں کو روکنے کا ہے۔

کریوی ریح میں امدادی کارکن رات بھر ٹارچ لائٹس کے ساتھ کام کرتے رہے، تباہ شدہ کاروں، ٹوٹی کھڑکیوں والی عمارتوں اور گڑھے کے گرد گھومتے رہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے ایک عینی شاہد کے مطابق رہائشیوں نے گھروں کی ہنگامی مرمت سامان اٹھا رکھا تھا۔

روشنی کے لیے اپنے موبائل فون کا استعمال کرتے ہوئے، کچھ لوگوں نے ہیلپ سینٹرز میں اندراج کرایا۔

47 سالہ یولیا نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ وہاں مردہ بچے پڑے ہوئے تھے، والدین رو رہے تھے، یہ خوفناک تھا۔

صدر ولودیمیر زیلینسکی کے آبائی شہر پر ہونے والا حملہ اس تنازعے میں اس سال ماسکو کے مہلک ترین حملوں میں سے ایک تھا، جس کا آغاز فروری 2022 میں کریملن کے یوکرین پر مکمل حملے کے ساتھ ہوا تھا۔

ایمرجنسی سروسز کا کہنا ہے کہ کم از کم 50 افراد زخمی ہوئے ہیں اور یہ تعداد بڑھ رہی ہے۔ لیسک نے بتایا کہ تین ماہ کے بچے سمیت 30 سے زائد افراد اسپتال میں زیرعلاج ہیں۔

روس عام شہریوں کو نشانہ بنانے سے انکار کرتا ہے لیکن اس حملے میں ہزاروں افراد ہلاک اور زخمی ہوچکے ہیں۔

یوکرین کی فوج کے جنرل اسٹاف نے کہا کہ اس حملے سے ظاہر ہوتا ہے کہ روس کسی بھی طرح سے امن کا خواہاں نہیں ہے، بلکہ یوکرین کو تباہ کرنے کے لئے اپنے حملے اور جنگ جاری رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

اپنے رات کے ویڈیو خطاب میں زیلینسکی نے مغرب پر زور دیا کہ وہ ماسکو پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالے۔

جمعہ کو دونوں فریقوں نے ایک دوسرے پر ایک بار پھر توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام لگایا۔

روس کی وزارت دفاع نے یوکرین پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران روسی توانائی تنصیبات پر چھ بار حملے کیے ہیں۔

زیلنسکی نے کہا کہ روس نے جمعہ کے روز یوکرین کے شہر خرسن میں تھرمل پاور پلانٹ پر ڈرون حملہ کیا تھا۔

Comments

200 حروف