امریکی حکومت نے پاکستان کی تجارتی اور سرمایہ کاری پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کیا ہے، جو امریکی کمپنیوں کو نقصان پہنچا رہی ہیں، خاص طور پر اس پس منظر میں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان پر 29 فیصد ریسیپروکل ٹیرف نافذ کیا ہے۔

2025 نیشنل ٹریڈ ایسٹیمیٹ رپورٹ آن فارن ٹریڈ بیریئرز کے مطابق امریکی کمپنیوں نے ان خدشات کا حوالہ دیا ہے کہ پاکستان آٹوموبائل اور تیار شدہ اشیاء جیسی مصنوعات پر زیادہ ٹیرف کی شرح اور کچھ معاملات میں اضافی ڈیوٹیز عائد کر رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں امریکی برآمد کنندگان کو فرسودہ انوائسنگ قوانین کی وجہ سے غیر یکساں کسٹم ویلیو ایشن، حد سے زیادہ دستاویزات کی ضروریات اور جرمانے کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس سے تعمیل کا بوجھ بڑھ جاتا ہے۔

امریکی کمپنیوں نے کسٹمز رولز 389 اور 391 سے بری طرح متاثر ہونے کی اطلاع دی ہے۔

کسٹمز رول 389 کے تحت شپنگ کنٹینر میں فزیکل انوائس اور پیکنگ لسٹ لگانا ضروری ہے جبکہ کسٹمز رول 391 میں ایسی دستاویزات کو شامل کرنے کی ذمہ داری اور تعمیل میں ناکامی کی ذمہ داری سامان کے مالک اور کیریئر پر عائد کی گئی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کے قوانین ان کمپنیوں کے لیے تعمیل کے چیلنجز پیدا کرتے ہیں جو ٹرانزٹ کے دوران مختلف مقامات پر انٹرمیڈیئرز، ری انوائسنگ یا سامان کو ذخیرہ کرنے کا استعمال کرتی ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی کمپنیوں کو پاکستان میں غیر ملکی زرمبادلہ کی پابندیوں اور بیوروکریٹک رکاوٹوں کا سامنا ہے جس کی وجہ سے ان کے لیے منافع کی منتقلی مشکل ہو جاتی ہے۔

تاہم 2024 میں حالات بہتر ہوئے کیونکہ پاکستان کی ادائیگیوں کے توازن میں استحکام آیا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی کمپنیوں کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے متوقع ٹیکس واجبات کی پیشگی ادائیگی کے لیے دباؤ کا سامنا ہے اور انہوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ ان کے بہت سے مقامی حریف اب بھی ٹیکس ادا نہیں کرتے یا ٹیکس چوری میں ملوث ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی حکومت نے امریکی کمپنیوں پر غیر منصفانہ اور غیر متناسب ٹیکسوں سے متعلق معاملات پر حکومت پاکستان کے ساتھ بار بار بات چیت کی ہے اور پاکستان کی ٹیکس بیس کو وسیع کرنے کو اہمیت دینا جاری رکھا ہے۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان کمزور انٹلیکچوئل پراپرٹی (آئی پی) کے نفاذ، بڑھتی ہوئی جعل سازی اور آئی پی ٹریبونلز کے متضاد فیصلوں کی وجہ سے امریکہ کی خصوصی 301 واچ لسٹ میں برقرار ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ پاکستان نے اپنی آئی پی نفاذ کی کوششوں کو بہتر بنانے اور اپنے آئی پی قوانین کو اپ ڈیٹ کرنے کی سمت میں بتدریج بہتری کی ہے ، لیکن سنگین خدشات موجود ہیں ، خاص طور پر آئی پی نفاذ کے شعبے میں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی کمپنیوں نے پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے کرپشن اور کمزور عدالتی نظام کو بھی کافی نقصاندہ قرار دیا ہے۔

Comments

200 حروف