ٹرمپ کے نئے جوابی ٹیرف سے عالمی تجارتی کشیدگی میں اضافہ متوقع
- ڈونلڈ ٹرمپ کے "لبریشن ڈے" ٹیرف منصوبوں کی تفصیلات ابھی تیار کی جا رہی ہیں اور ان معلومات کو انتہائی رازداری میں رکھا جا رہا ہے۔ یہ منصوبہ وائٹ ہاؤس کے روز گارڈن میں 4 بجے شام (ایسٹرن ٹائم) کی تقریب کے دوران عوامی سطح پر پیش کیا جائے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بدھ کو عالمی تجارتی شراکت داروں پربڑے پیمانے پر نئے جوابی ٹیرف عائد کرنے کے لیے تیار ہیں، جس سے روایتی تجارتی نظام متاثر ہوسکتا ہے، قیمتیں بڑھنے کا خدشہ ہے اور ممکنہ طور پر ہر جانب سے جوابی کارروائی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
ٹرمپ کے یومِ آزادی ٹیرف منصوبوں کی تفصیلات ابھی تیاری کے مرحلے میں ہے اور وائٹ ہاؤس کو گارڈن میں شام 4 بجے ایسٹرن ٹائم (2000 جی ایم ٹی) پر ہونے والی اعلانیہ تقریب سے قبل خفیہ رکھی جارہی ہے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کارولن لیویٹ نے منگل کو کہا کہ ٹرمپ کے اعلان کے فوری بعد نئی ڈیوٹیز کا اطلاق ہوگا جبکہ آٹو درآمدات پر 25 فیصد عالمی ٹیرف کا اطلاق 3 اپریل سے ہوگا۔
ٹرمپ کئی ہفتوں سے کہہ رہے ہیں کہ ان کے جوابی ٹیرف کا مقصد امریکی ٹیرف کی نسبتاً کم شرح کو دیگر ممالک کے ٹیرف کے برابر لانا اور نان ٹیرف رکاوٹوں کا مقابلہ کرنا ہے جو امریکی برآمدات کو نقصان پہنچاتی ہیں۔
تاہم ان محصولات کا فارمیٹ واضح نہیں تھا کیونکہ ان اطلاعات کے مطابق ٹرمپ 20 فیصد یونیورسل ٹیرف لگانے پر غور کر رہے ہیں۔
تاہم ان ٹیرف کی حتمی شکل واضح نہیں ہے کیونکہ اطلاعات کے مطابق ٹرمپ 20 فیصد عالمی ٹیرف پر غور کررہے تھے۔
ٹرمپ کے سابق تجارتی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ ٹرمپ ممکنہ طور پر ہر ملک پر الگ لیکن نسبتاً کم شرح کے جامع ٹیرف عائد کریں گے۔
سابق عہدیدار نے کہا کہ ان ٹیرف کا سامنا کرنے والے ممالک کی تعداد شاید ان تقریباً 15 ممالک سے زیادہ ہو گی جن کا ذکر ٹریژری سکریٹری اسکاٹ بیسنٹ نے پہلے کیا تھا، جو اپنے امریکی تجارتی سرپلس کی وجہ سے انتظامیہ کی توجہ میں تھے۔ بیسنٹ نے منگل کو ریپبلکن ارکانِ پارلیمنٹ کو بتایا کہ جوابی ٹیرف امریکہ کی سب سے زیادہ ٹیرف کی سطح کو ظاہر کرتے ہیں اور یہ کم ہوسکتے ہیں اگر یہ ممالک انتظامیہ کی شرائط پوری کرتے ہیں۔
محکمہ تجارت کے ایک سابق عہدیدار ریان میجرس نے کہا کہ عالمی ٹیرف کو نافذ کرنا وقت کی کمی کے پیش نظر آسان ہوگا اور یہ زیادہ آمدنی پیدا کرسکتا ہے، مگر انفرادی جوابی ٹیرف ہر ملک کے غیر منصفانہ تجارتی طریقوں کے مطابق زیادہ مناسب ہونگے۔
کنگ اینڈ اسپلڈنگ لا فرم کے ایک پارٹنر ماجرس نے کہا کہ چاہے جو بھی طریقہ اختیار کیا جائے، آج کے اعلان کے اثرات مختلف صنعتوں پر وسیع پیمانے پر اہم ہوں گے۔
اسٹیکنگ ٹیرف
عہدہ سنبھالنے کے صرف 10 ہفتوں میں ریپبلکن صدر نے چین سے تمام درآمدات پر فینٹینائل کے معاملے پر 20 فیصد نئی ڈیوٹی عائد کردی ہے اور اسٹیل اور ایلومینیم پر 25 فیصد ڈیوٹی مکمل طور پر بحال کردی ہے۔ یہ ٹیرف تقریباً 150 ارب ڈالر مالیت کے ڈاؤن اسٹریم مصنوعات تک پھیلائے گئے ہیں۔
کینیڈا اور میکسیکو کی بیشتر اشیاء کے لیے فینٹانل سے متعلق 25 فیصد ٹیرف سے ایک ماہ کی رعایت بھی بدھ کو ختم ہونے والی ہے۔
امریکی انتظامیہ کے حکام کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے تمام ٹیرف، بشمول پچھلے ٹیرف، یکجا ہو رہے ہیں، یعنی میکسیکو میں بنی ایک گاڑی جو پہلے امریکہ میں داخل ہونے پر 2.5 فیصد ٹیرف عائد ہوتی تھی، اب فینٹانل ٹیرف اور آٹوموبائل سیکٹر کے ٹیرف دونوں کا شکار ہوگی، جس سے مجموعی ٹیرف کی شرح 52.5 فیصد ہو جائے گی – اس کے علاوہ میکسیکو کی اشیاء پر ٹرمپ جو بھی جوابی ٹیرف عائد کریں گے۔
ٹیرف پر بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال سرمایہ کاروں، صارفین اور کاروباری طبقے کا اعتماد متاثر کر رہی ہے، جس کے نتیجے میں سرگرمی سست پڑ سکتی ہے اور قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
فیڈرل ریزرو بینک آف اٹلانٹا کے ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ ایک حالیہ سروے سے پتہ چلتا ہے کہ کارپوریٹ مالیاتی سربراہوں کو توقع ہے کہ اس سال محصولات سے ان کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا جب کہ روزگار اور ترقی میں کمی آئے گی۔
تشویش میں مبتلا سرمایہ کاروں نے ایک ماہ سے زیادہ عرصے تک جارحانہ انداز میں اسٹاکس فروخت کیے ہیں، جس کے نتیجے میں فروری کے وسط سے اب تک امریکی اسٹاکس کی قیمتوں میں تقریباً 5 ٹریلین ڈالر کی کمی آ چکی ہے۔
وال اسٹریٹ کا اختتام منگل کو ملا جلا رہا کیونکہ سرمایہ کار تفصیلات کا انتظار کر رہے ہیں جو بدھ کو ٹرمپ کے اعلان کے حوالے سے ہوں گی۔
جوابی اقدامات
ورپی یونین سے لے کر کینیڈا اور میکسیکو تک تجارتی شراکت داروں نے جوابی ٹیرف اور دیگر اقدامات کا اعلان کیا ہے حالانکہ کچھ ممالک نے وائٹ ہاؤس سے مذاکرات کی بھی کوشش کی ہے۔
کینیڈین وزیر اعظم مارک کارنی اور میکسیکو کی صدر کلاڈیا شین بام نے منگل کو امریکہ کی جانب سے غیر منصفانہ تجارتی اقدامات کے خلاف کینیڈا کے منصوبے کے بارے میں بات چیت کی۔
کارنی کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ آنے والے مشکل حالات کے پیش نظر وزیراعظم کارنی اور صدر شینبام نے شمالی امریکا کی مسابقت کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا جبکہ ہر ملک کی خودمختاری کا احترام بھی ضروری ہے۔
امریکی کمپنیوں کا کہنا ہے کہ بائی کینیڈین مہم پہلے ہی ان کی مصنوعات کو کینیڈا کی مارکیٹ تک پہنچنے میں مشکل بنارہی ہے۔
ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ امریکی مزدوروں اور صنعتوں کو دہائیوں سے آزاد تجارتی معاہدوں سے نقصان پہنچا ہے، جنہوں نے عالمی تجارت کی رکاوٹیں کم کیں اور درآمدی اشیاء کے لیے 3 ٹریلین ڈالر کی امریکی مارکیٹ کو فروغ دیا۔
درآمدات میں اس تیزی کے ساتھ ٹرمپ کے نزدیک ایک بڑا نقصان بھی ہے: امریکہ اور دنیا کے درمیان شدید تجارتی عدم توازن، جہاں اشیاء کا تجارتی خسارہ 1.2 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔
ماہرین اقتصادیات خبردار کررہے ہیں کہ ٹرمپ کا حل – بھاری ٹیرف – ملکی اور بین الاقوامی سطح پر قیمتیں بڑھا دے گا اور عالمی معیشت کو نقصان پہنچائے گا۔
ییل یونیورسٹی بجٹ لیب کے مطابق، پہلے سے عائد ٹیرف کے علاوہ 20 فیصد اضافی ٹیرف امریکی گھرانوں پر اوسطاً کم از کم 3,400 ڈالر کا اضافی بوجھ ڈالے گا۔
Comments