اسرائیلی فضائیہ نے غزہ کے ناصر اسپتال میں حملہ کرکے حماس پولیٹیکل بیورو کے رکن اسماعیل سمیت 5 افراد کو شہید کردیا۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ حملہ حماس کے ایک اہم رہنما کو نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا تھا۔
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق حملہ خان یونس کے ناصر اسپتال کے سرجری وارڈ پر کیا گیا۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ یہ حملہ وسیع انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کیا گیا اور نقصان کو کم سے کم رکھنے کے لیے جدید ہتھیار استعمال کیے گئے۔
حماس کا کہنا ہے کہ اس کے سیاسی دفتر کے ایک رکن اسماعیل برہوم حملے میں شہید ہوگئے ہیں۔
اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے تصدیق کی ہے کہ حملے کا ہدف برہوم تھا جبکہ اسرائیلی فوج نے اسے صرف حماس کا ایک اہم دہشت گرد قرار دیا اور نام ظاہر نہیں کیا۔
حماس کے الاقصیٰ ٹی وی کے مطابق اسماعیل برہوم ایک حملے میں زخمی ہونے کے بعد اسپتال میں زیر علاج تھے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ حماس منظم طریقے سے اسپتالوں، اسکولوں اور پناہ گاہوں میں اپنی موجودگی قائم رکھتی ہے تاہم حماس اس الزام کی تردید کرتی ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اسپتال کی تیسری منزل پر آگ بھڑک رہی ہے، تاہم رائٹرز فوری طور پر فوٹیج کی تصدیق نہیں کرسکا۔
دو ماہ تک نسبتا پرسکون رہنے کے بعد غزہ کے باشندے ایک بار پھر اپنی جان بچانے کے لیے نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں کیونکہ اسرائیل نے عملی طور پر جنگ بندی کو ترک کردیا ہے اور منگل کو حماس کے خلاف ایک نئی بھرپور فضائی اور زمینی مہم کا آغاز کر دیا ہے۔
قبل ازیں حماس نے کہا تھا کہ خان یونس میں ایک علیحدہ حملے میں حماس کے ایک اور رہنما صلاح البردویل شہید ہوگئے ہیں۔
اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ اس نے ہفتے کو البردویل کو شہید کردیا ہے۔
حماس ذرائع کے مطابق، بردویل اور برہوم دونوں حماس کے 19 رکنی فیصلہ ساز سیاسی دفتر کے رکن تھے، جن میں سے 11 جنگ کے آغاز، اواخر 2023 سے اب تک شہید ہوچکے ہیں۔
اتوار کی صبح شمالی، وسطی اور جنوبی غزہ میں دھماکوں کی آوازیں گونجتی رہیں، جب اسرائیلی طیاروں نے ان علاقوں میں حملے کیے۔ عینی شاہدین کے مطابق، یہ حملے گزشتہ ہفتے شروع ہونے والی بمباری میں نمایاں شدت کی علامت ہیں۔
اسرائیلی فوج نے اتوار کو اشارہ دیا کہ وہ اپنے اقدامات میں مزید شدت لا سکتی ہے۔ فوج کے مطابق، اس کی ایک ڈویژن، جو پہلے لبنان میں حماس کے ایرانی حمایت یافتہ اتحادی حزب اللہ کے خلاف تعینات تھی، اب غزہ میں ممکنہ کارروائی کے لیے تیار ہورہی ہے۔
فوج نے ٹینکوں کی منتقلی کی ویڈیو جاری کی، جس کے ساتھ کیپشن تھا: ”36ویں ڈویژن کی غزہ میں آپریشنز کے لیے تیاری“۔
صحت حکام کے مطابق، اتوار کو اب تک رفح اور خان یونس میں اسرائیلی حملوں میں کم از کم 45 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔
فلسطینی حکام نے اتوار کو بتایا ہے کہ تقریبا 18 ماہ سے جاری لڑائی میں شہید ہونے والوں کی تعداد 50 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ عام شہریوں کو پہنچنے والے نقصان کو کم کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔
صحت حکام کے مطابق، غزہ میں شہید ہونے والوں میں زیادہ تر عام شہری ہیں۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ ان میں تقریباً 20,000 جنگجو بھی شامل ہیں جبکہ حماس اپنے جانی نقصان کے اعداد و شمار جاری نہیں کرتی۔
اسرائیل کے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ جنگ کا مقصد حماس کو بطور عسکری اور حکومتی تنظیم ختم کرنا ہے۔ انہوں نے منگل کو کہا کہ نئی مہم کا مقصد گروپ کو باقی ماندہ یرغمالیوں کو چھوڑنے پر مجبور کرنا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر بات چیت کی اور اسرائیل کے لیے امریکی حمایت پر زور دیا۔ ترجمان نے مزید کہا کہ انہوں نے غزہ میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائیوں، یرغمالیوں کو وطن واپس لانے کی کوششوں اور یمن میں ایرانی حمایت یافتہ حوثی گروپ کے خلاف امریکی حملوں پر تبادلہ خیال کیا۔
Comments