غزہ کے جنوبی علاقے خان یونس میں اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں حماس کے سیاسی رہنما صلاح البردویل جاں بحق ہو گئے، حماس کے حکام نے اتوار کو واقعہ کی تصدیق کی ہے۔
حماس کے حامی میڈیا کے مطابق، فضائی حملے میں البردویل اور ان کی اہلیہ جاں بحق ہو گئے۔ اسرائیلی حکام نے اس حوالے سے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
حماس کے میڈیا مشیر طاہر النونو نے فیس بک پر ایک پیغام میں صلاح البردویل کی موت پر افسوس کا اظہار کیا۔
منگل کو اسرائیل کے بڑے پیمانے پر فضائی اور زمینی حملے کے بعد دو ماہ کی نسبتاً وقفے کے بعد غزہ کے شہری ایک بار پھر نقل مکانی پر مجبور ہو گئے۔
اتوار کی صبح شمالی، وسطی اور جنوبی غزہ میں زوردار دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں، جب اسرائیلی طیاروں نے مختلف مقامات پر حملے کیے۔
حماس نے ایک بیان میں اسرائیل پر الزام لگایا کہ اس نے البردویل کو قتل کیا، جو خان یونس میں اپنی اہلیہ کے ساتھ ایک خیمے میں نماز ادا کر رہے تھے، جب ان پر میزائل داغا گیا۔
حماس نے کہا، ان کا خون، ان کی اہلیہ اور دیگر شہداء کی قربانیاں آزادی اور خودمختاری کی جنگ کو مزید تقویت بخشیں گی۔ دشمن ہمارے عزم کو توڑنے میں ناکام رہے گا۔
اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کئی بار کہہ چکے ہیں کہ اس جنگ کا مقصد حماس کی فوجی اور حکومتی حیثیت کو تباہ کرنا ہے۔
اسرائیلی حملوں میں منگل کے روز حماس کی حکومت کے سربراہ عصام الدلیس، داخلی سیکیورٹی چیف محمود ابو وفا اور دیگر کئی عہدیدار بھی مارے گئے۔
فلسطینی وزارت صحت کے حکام کے مطابق، منگل کو ہونے والے حملوں میں کم از کم 400 فلسطینی شہید ہوئے، جن میں سے نصف سے زیادہ خواتین اور بچے تھے۔
فلسطینی طبی ذرائع کے مطابق، اسرائیلی طیارے نے جنوبی غزہ کے شہر رفح میں ایک گھر پر بمباری کی، جس سے کئی افراد زخمی ہوئے۔
حماس نے اسرائیل پر جنوری میں طے پانے والی جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام لگایا ہے، جس کے تحت اسرائیل کو مذاکرات شروع کرنا تھے تاکہ جنگ کا مکمل خاتمہ اور غزہ سے اسرائیلی افواج کا انخلا ممکن ہو سکے۔
عرب اور یورپی ممالک نے اسرائیلی حملوں پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے ایک مشترکہ بیان میں اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ انسانی امداد کی بحالی کی اجازت دے۔
اسرائیل نے غزہ میں اشیائے ضروریہ کی ترسیل روک دی ہے اور حماس پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ امدادی سامان اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے، جسے حماس پہلے ہی مسترد کر چکی ہے۔
اسرائیل نے یہ جنگ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے بعد شروع کی تھی، جس میں اسرائیلی حکام کے مطابق 1,200 افراد ہلاک اور 251 یرغمال بنا لیے گئے تھے۔
فلسطینی حکام کے مطابق، اسرائیلی حملوں میں اب تک 49,000 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جبکہ لاکھوں لوگ خیموں اور عارضی پناہ گاہوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
Comments