مالی سال 25: غیر ملکی سرمایہ کاروں کے منافع کی منتقلی میں 104 فیصد اضافہ
- مالی سال 25 کے جولائی تا فروری کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاروں نے 1.55 ارب ڈالر واپس بیرون ملک بھجوائے جبکہ مالی سال 24 کے اسی عرصے میں یہ رقم 76 کروڑ ڈالر تھی۔
پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والے منافع اور ڈیوڈنڈ کی منتقلی میں رواں مالی سال (مالی سال 25) کے پہلے آٹھ ماہ کے دوران 104 فیصد کا نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جو معاشی حالات میں بہتری اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 25 کے جولائی تا فروری کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاروں نے 1.55 ارب ڈالر واپس بیرون ملک بھجوائے جبکہ مالی سال 24 کے اسی عرصے میں یہ رقم 76 کروڑ ڈالر تھی۔
تجزیہ کار اس اضافے کی وجہ پاکستان کے بیرونی کھاتوں میں جاری بہتری کو قرار دیتے ہیں، جس سے ملک میں کام کرنے والے غیر ملکی کاروباری اداروں کو مالی سال 25 کے آغاز سے اپنی آمدنی زیادہ آزادانہ طور پر واپس بھیجنے کا موقع ملا ہے۔ انہوں نے یہ بھی نوٹ کیا کہ زیادہ رقم کے بیرون ملک جانے سے آہستہ آہستہ معاشی بحالی کی نشاندہی ہوتی ہے ، کیونکہ کمپنیوں کو پاکستان کے مالیاتی استحکام پر اعتماد دوبارہ حاصل ہورہا ہے۔
گزشتہ سال حکومت نے بیرونی واجبات کو سنبھالنے اور زرمبادلہ کے ذخائر کو برقرار رکھنے کے لیے منافع کی واپسی پر عارضی پابندیاں عائد کی تھیں۔ تاہم، حالیہ اضافے سے پتہ چلتا ہے کہ حکام اب غیر ملکی کمپنیوں کو پابندیوں کے بغیر اپنی آمدنی بیرون ملک منتقل کرنے کی اجازت دے رہے ہیں، جو پالیسی کو معمول پر لانے اور فاریکس لیکویڈیٹی کو بہتر بنانے کا اشارہ دے رہے ہیں.
جولائی تا فروری مالی سال 25ء کے دوران براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری پر منافع کی منتلقی 110 فیصد اضافے کے ساتھ 1.486 ارب ڈالر رہی جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 705 ملین ڈالر تھی۔
غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاری (ایف پی آئی) سے بیرونی سرمایہ کاری (ایف پی آئی) سے مالی سال 25 کے پہلے آٹھ ماہ کے دوران 65 ملین ڈالر کا اخراج ہوا جو مالی سال 24 کے اسی عرصے میں 55.5 ملین ڈالر تھا۔
ماہانہ بنیادوں پر غیر ملکی کمپنیوں نے فروری 2025 میں منافع کی مد میں 233.3 ملین ڈالر بیرون ملک منتقل کیے۔ اس رقم میں سے 232.6 ملین ڈالر ایف ڈی آئی آمدنی سے متعلق تھے جبکہ 0.7 ملین ڈالر ایف پی آئی ریٹرن سے متعلق تھے۔
جولائی تا فروری مالی سال 2025 کے دوران صنعتوں میں فوڈ سیکٹر 291 ملین ڈالرز کی منتقلی کے ساتھ سرفہرست رہا، اس کے بعد پاور سیکٹر (233 ملین ڈالرز) اور فنانشل بزنسز (192 ملین ڈالرز) کا نمبر آتا ہے۔
رقم کی بیرون ملک منتقلی میں تیزی سے اضافہ غیر ملکی سرمایہ کاروں میں بڑھتے ہوئے اعتماد اور پاکستان میں بہتر کاروباری ماحول کی نشاندہی کرتا ہے۔ منافع کی منتقلی پر پابندیوں میں نرمی سے مزید غیر ملکی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کا امکان ہے ، جس سے ملک کی معاشی بحالی کی کوششوں کو تقویت ملے گی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025
Comments