پاکستان نے فشریز سبسڈیز پر ڈبلیو ٹی او کا معاہدہ باضابطہ طور پر قبول کرلیا
- پاکستان کی جانب سے توثیق کے بعد فشریز سبسڈی کے معاہدے کو باضابطہ طور پر قبول کرنے والے ڈبلیو ٹی او کے ارکان کی مجموعی تعداد 94 ہوگئی
- معاہدے کو نافذ کرنے کے لئے مزید سترہ ارکان کی جانب سے باضابطہ طور پر توثیق کی ضرورت ہے
ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (ڈبلیو ٹی او) نے جمعرات کو اعلان کیا ہے کہ پاکستان نے ماہی گیری کی سبسڈی کے معاہدے کو باضابطہ طور پر قبول کر لیا ہے جس کے بعد ڈبلیو ٹی او کے ارکان کی مجموعی تعداد 94 ہو گئی ہے جنہوں نے معاہدے کی باضابطہ طور پر توثیق کی ہے اور یہ پائیدار فشریز کے طریقوں کو فروغ دینے کی عالمی کوششوں کی طرف ایک اہم قدم ہے۔
یہ معاہدہ 12ویں ڈبلیو ٹی او وزارتی کانفرنس میں 12-17 جون 2022 کو جنیوا میں اتفاق رائے سے منظور کیا گیا تھا۔ فشریز سبسڈی کے معاہدے میں نئی، پابند کرنے والی، کثیر الجہتی قواعد و ضوابط وضع کی گئی ہیں تاکہ نقصان دہ سبسڈی کو روکنے میں مدد ملے جو دنیا بھر میں مچھلی کے ذخائر کے وسیع پیمانے پر خاتمے کا ایک اہم سبب ہیں۔
باکس لگے گا معاہدے کو مؤثر بنانے کے لیے مزید سترہ ممالک کی جانب سے باضابطہ طور پر توثیق کی ضرورت ہے۔
اس کے علاوہ، معاہدہ ترقی پذیر معیشتوں اور سب سے کم ترقی یافتہ ممالک کی ضروریات کو تسلیم کرتا ہے اور ایک فنڈ قائم کرتا ہے تاکہ ان کو تکنیکی معاونت اور صلاحیت سازی فراہم کی جا سکے تاکہ وہ اپنی ذمہ داریوں پر عملدرآمد کرسکیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے اس معاہدے کو باضابطہ طور پر قبول کرنے کے بعد ڈبلیو ٹی او کے ارکان کی مجموعی تعداد 94 ہو گئی ہے۔ معاہدے کے نفاذ کے لئے مزید سترہ ممالک کی باضابطہ طور پر توثیق کی ضرورت ہے۔ ڈبلیو ٹی او کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ معاہدہ دو تہائی ارکان کی جانب سے قبولیت کے بعد نافذ العمل ہوگا۔
اب تک کل 68 رکن ممالک فشریز سبسڈی کے معاہدے کی منظوری دے چکے ہیں۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈبلیو ٹی او میں پاکستان کے نمائندے علی سرفراز حسین نے کہا کہ پاکستان کو ڈبلیو ٹی او معاہدے کی توثیق کے دستاویز جمع کرانے پر خوشی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ ہمارے سمندری وسائل کے تحفظ کے لئے حکومت پاکستان کے غیر متزلزل عزم کی عکاسی کرتا ہے جو ہماری قومی معیشت کا ایک اہم جزو ہے اور ہماری ساحلی آبادیوں کے ذریعہ معاش کا ایک اہم جزو ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم اس اہم کردار کو تسلیم کرتے ہیں جو یہ معاہدہ مچھلی پکڑنے کے نقصان دہ طریقوں کو روکنے اور ہمارے سمندروں کی طویل مدتی صحت کو یقینی بنانے میں ادا کرسکتا ہے۔ ہم ڈبلیو ٹی او کے تمام ارکان پر زور دیتے ہیں کہ وہ اس اہم عالمی کوشش میں ہمارا ساتھ دیں۔
ڈبلیو ٹی او کے ڈائریکٹر جنرل اینگوزی اوکونجو ایولا نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے معاہدے کی باضابطہ منظوری عالمی سمندری وسائل کی طویل مدتی پائیداری کو یقینی بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے جبکہ صحت مند ماہی گیری پر منحصر لاکھوں افراد کے ذریعہ معاش کا تحفظ بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس اجتماعی کوشش میں شامل ہو کر پاکستان اپنی ساحلی آبادیوں اور ماحولیات کے ساتھ اپنی وابستگی کا اظہار کرتا ہے اور اس کے تحت وہ ہماری فش فنڈنگ کا اہل بھی بن جائے گا، میں ڈبلیو ٹی او کے بقیہ ارکان کی حوصلہ افزائی کرتی ہوں کہ وہ تیزی سے اس کی پیروی کریں - ہمیں صرف 17 مزید ممالک کی ضرورت ہے۔
اراکین نے ایم سی 12 میں زیر التوا معاملات پر بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا تاکہ اضافی شقوں کو اپنایا جاسکے جس سے معاہدے کے مضامین میں مزید اضافہ ہوگا۔
Comments