یوکرین اور امریکی حکام کے درمیان روس کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے حوالے سے ہونے والی بات چیت سے قبل صدر ولادیمیر زیلینسکی پیر کو سعودی عرب کا دورہ کریں گے تاکہ ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کرسکیں۔

امریکہ جو کسی زمانے میں یوکرین کا اہم اتحادی تھا نے جنگ کے خاتمے کے لیے اپنی پالیسی تبدیل کردی ہے۔ اب وہ ماسکو سے براہ راست بات کررہا ہے جبکہ کیف کو فوجی امداد اور انٹیلی جنس فراہم کرنا بند کردیا ہے۔

زیلنسکی کی توقع ہے کہ وہ محمد بن سلمان سے ملاقات کریں گے جن کے سعودی عرب نے روس کے 2022 کے حملے کے بعد مختلف ثالثی کے کردار ادا کیے ہیں، جن میں قیدیوں کے تبادلے کا انتظام کرنا اور پچھلے ماہ روس اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی میزبانی شامل ہے۔

منگل کو امریکی اور یوکرینی حکام کی ملاقات ہوگی، جو زیلنسکی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ناکام ملاقات کے بعد پہلی بار ہورہی ہے۔ اس ملاقات میں دوطرفہ معدنیات کے معاہدے اور جنگ کے خاتمے پر بات کی جائے گی۔

ٹرمپ کے دباؤ کے تحت، جو جنگ کو تیزی سے ختم کرنا چاہتے ہیں ، زیلنسکی نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ دونوں ایک ہی موقف پر ہیں ، حالانکہ وہ یوکرین کے لیے امن معاہدے کیلئے ضروری امریکی سیکیورٹی گارنٹیوں کا وعدہ حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

زیلنسکی نے کہا کہ وہ امریکی حکام کے ساتھ مذاکرات میں شرکت نہیں کریں گے۔ یوکرین کے وفد میں ان کے چیف آف اسٹاف، وزرائے خارجہ ،وزیر دفاع اور صدارتی انتظامیہ کے ایک اعلیٰ فوجی عہدیدار شامل ہوں گے۔

زیلنسکی نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ہماری طرف سے ہم تعمیری بات چیت کے لیے پوری طرح پرعزم ہیں اور ہم ضروری فیصلوں اور اقدامات پر بات چیت اور اتفاق کرنے کی امید رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حقیقت پسندانہ تجاویز میز پر موجود ہیں، اصل بات یہ ہے کہ تیزی اور مؤثر طریقے سے آگے بڑھنا ہے۔

معاہدے کا فریم ورک

ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف جو مذاکرات کا انتظام کررہے ہیں نے کہا کہ مقصد یہ ہے کہ امن معاہدے کا فریم ورک تیار کیا جائے اور ابتدائی جنگ بندی بھی کی جائے۔

زیلنسکی نے جنگ بندی کے علاوہ قیدیوں کے تبادلے کی اپیل کی ہے، جسے ان کے مطابق روس کے جنگ کے خاتمے کے عزم کا امتحان سمجھا جاسکتا ہے۔ تاہم، ماسکو نے عارضی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی ہے، جو برطانیہ اور فرانس نے بھی پیش کی تھی، اور کہا کہ یہ کیف کو وقت دینے اور اس کی فوجی ناکامی کو روکنے کی کوشش ہے۔

یوکرین رہنما نے کہا کہ کیف امریکہ کے ساتھ معدنیات کے معاہدے پر دستخط کرنے کے لئے تیار ہیں جو یوکرین کی معدنیات کی فروخت سے ایک مشترکہ فنڈ تشکیل دے گا ۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ یہ امریکی حمایت جاری رکھنے کے لئے اہم ہے۔

امریکی حمایت کے ساتھ زیلنسکی اپنے یورپی اتحادیوں سے درخواست کر رہے ہیں کہ وہ کیف کی جنگی پوزیشن کی بگڑتی حالت اور روس کے کر سک علاقے سے پسپائی کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے دوران اپنی حمایت بڑھائیں۔

اوپن سورس نقشوں کے مطابق گزشتہ گرمیوں میں کر سک علاقے میں دھاوا بولنے والے یوکرینی فوجیوں کو روسی افواج نے تقریباً گھیر لیا ہے۔

زیلینسکی نے کہا ہے کہ روس نے صرف گزشتہ ایک ہفتے کے دوران یوکرین پر 1200 فضائی گائیڈڈ بم، تقریبا 870 ڈرون اور 80 سے زائد میزائل داغے ہیں۔

Comments

200 حروف