امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ممکنہ طور پر سعودی عرب کا پہلا غیر ملکی دورہ کریں گے تاکہ سعودی عرب کے ساتھ امریکی معیشت میں ایک ٹریلین ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کا معاہدہ طے پاسکے جس میں فوجی سازوسامان کی خریداری بھی شامل ہے۔
اوول آفس میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ ممکنہ طور پر آئندہ ڈیڑھ ماہ میں سعودی عرب جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ان کے پہلے دور حکومت کا پہلا غیر ملکی دورہ 2017 میں ریاض تھا جہاں انہوں نے سعودی سرمایہ کاری کا اعلان کیا تھا جس کا تخمینہ 350 ارب ڈالر لگایا گیا تھا۔
ٹرمپ نے کہا کہ ان کی درخواست پر سعودی عرب امریکی کمپنیوں میں 4 سال کے دوران 1 کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیار ہے جس میں امریکی فوجی سازوسامان کی خریداری بھی شامل ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ سعودی عرب نے اس پر رضامندی ظاہر کی ہے، اس لیے میں وہاں جارہا ہوں، میرے ان کے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہیں۔
سعودی عرب امریکی خارجہ پالیسی میں ایک اہم کردار ادا کررہا ہے۔
ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے صحافیوں کو بتایا کہ سعودی عرب اگلے ہفتے امریکہ اور یوکرین کے درمیان ایک اجلاس کی میزبانی کرے گا جس میں یوکرین جنگ بندی پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ فروری کے دوران ٹرمپ نے پی جی اے ٹور کے حکام اور سعودی ملکیت والی ایل آئی وی گالف کے عہدیداروں سے ملاقات کی تاکہ دونوں کے درمیان اختلافات کو حل کیا جا سکے۔ صدر ٹرمپ کے داماد اور مشرق وسطیٰ کے مشیر جیرڈ کشنر نے اپنی پہلی مدت کے دوران ایک نجی ایکوئٹی فرم شروع کی تھی جسے ٹرمپ کے عہدہ چھوڑنے کے بعد سعودی سرمایہ کاری میں 2 ارب ڈالر موصول ہوئے تھے۔
ٹرمپ نے حال ہی میں امریکی معیشت میں بھاری سرمایہ کاری کرنے والی کمپنیوں کے بارے میں متعدد اعلانات کی صدارت کی ہے، جن میں تائیوان سیمیکونڈکٹر مینوفیکچرنگ اور ایپل شامل ہیں۔
Comments