رواں مالی سال (مالی سال 25) کے پہلے 7 ماہ کے دوران وفاقی حکومت کے مجموعی قرضوں میں 3 کھرب روپے سے زائد کا اضافہ ہوا جس کی بنیادی وجہ مالی خسارے کو پورا کرنے کیلئے ملکی ذرائع سے بڑے پیمانے پر قرض لینا ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 25 کے پہلے 7 ماہ کے دوران مرکزی حکومت کا مجموعی قرضہ، جو ملکی اور غیر ملکی واجبات پر مشتمل ہے، مالی سال 2025 کے پہلے 7 ماہ کے دوران 4.65 فیصد بڑھ گیا۔

مجموعی قرضہ جنوری 2025 میں بڑھ کر 72.123 کھرب روپے تک پہنچ گیا، جو جون 2024 میں 68.914 کھرب روپے تھا، یوں اس میں 3.209 کھرب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

جائزہ مدت کے دوران ملکی قرضوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو 6.5 فیصد بڑھ گیا۔مجموعی طور پر وفاقی حکومت کے ملکی مارکیٹ سے قرضوں میں 3.08 ٹریلین روپے کا اضافہ ہوا جو جنوری 2025 میں 50.243 ٹریلین روپے تک پہنچ گیا جو جون 2024 میں 47.160 ٹریلین روپے تھا۔ اس ملکی قرضے میں طویل مدتی قرضوں کی مد میں 41.825 ٹریلین روپے اور قلیل مدتی قرضوں کی مد میں 8.352 ٹریلین روپے شامل ہیں۔

روپے کے لحاظ سے بیرونی قرضوں میں مالی سال 2025 کے پہلے 7 ماہ کے دوران 126 ارب روپے کا معمولی اضافہ ہوا جس کے بعد جنوری 2025 کے اختتام تک مجموعی بیرونی قرضہ بڑھ کر 21.880 کھرب روپے ہوگیا، جو جون 2024 میں 21.754 کھرب روپے تھا۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق جنوری 2025 میں امریکی ڈالر کا ویٹڈ اوسط کسٹمر ایکسچینج ریٹ 278.98 روپے رہا جو جون 2024 میں 278.77 روپے تھا، یعنی معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ محدود بیرونی قرضوں کی وجہ سے وفاقی حکومت اپنی مالی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے ملکی وسائل پر زیادہ انحصار کر رہی ہے۔رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران اسٹیٹ بینک نے وفاقی حکومت کو 3 کھرب روپے سے زائد کا منافع فراہم کیا، جس سے مالی معاونت حاصل ہوئی اور حکومت کو سرکاری سیکیورٹیز کی بائی بیک کارروائی کے لیے ایک سہولت میسر آئی۔

دریں اثناء پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) نے 6 مارچ 2025 کو ہونے والی جی او پی اجارہ سکوک (جی آئی ایس) کی 19 ویں نیلامی میں وفاقی حکومت کے لیے 91.60 ارب روپے جمع کیے۔ نیلامی میں مجموعی طور پر 207.90 ارب روپے کی بولیاں موصول ہوئیں جن میں ایک سالہ جی آئی ایس ڈسکاؤنٹڈ، 3، 5 اور 10 سالہ جی آئی ایس فکسڈ رینٹل ریٹ (ایف آر آر) فریش ایشو اور 3، 5 اور 10 سالہ جی آئی ایس ویری ایبل رینٹل ریٹ (وی آر آر) فریش ایشو شامل ہیں۔ حکومت نے ایک سالہ جی آئی ایس ڈسکاؤنٹ کے لیے 6 ارب روپے کی بولیاں قبول کیں جو 75 بی پی ایس اضافے کے ساتھ 10.999 روپے تھیں۔

3 اور 5 سالہ جی آئی ایس ایف آر آر کے ذریعے بالترتیب 11.4900 فیصد اور 11.9800 فیصد کی شرح پر 28 ارب روپے قرض لیا گیا۔ اس کے علاوہ 10 سالہ جی آئی ایس وی آر آر کے ذریعے 11.5470 فیصد کی شرح سے 57 ارب روپے جمع کیے گئے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

200 حروف