وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے منگل کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے کہا کہ ان کے کینیڈین درآمدات پر محصولات (ٹیرف) لگانے کا فیصلہ ”انتہائی بے وقوفی“ ہے اور کہا کہ اوٹاوا اپنے قریبی اتحادی کے خلاف فوری جوابی کارروائی کر رہا ہے۔

جسٹن ٹروڈو، جو اس ہفتے کے آخر میں عہدہ چھوڑ رہے ہیں، نے یہ بھی الزام لگایا کہ ٹرمپ کینیڈین معیشت کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔

ٹرمپ کی جانب سے میکسیکو اور کینیڈا کے خلاف تجارتی جنگ چھیڑنے کے چند گھنٹوں بعد، جسٹن ٹروڈو نے اعلان کیا کہ وہ فوری طور پر 30 ارب کینیڈین ڈالر مالیت کی امریکی درآمدات پر 25 فیصد محصولات عائد کر رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو 21 دن میں مزید 125 ارب کینیڈین ڈالر کی درآمدات کو نشانہ بنایا جائے گا۔

جسٹن ٹروڈو نے صحافیوں کو بتایا کہ ان محصولات کے لیے بالکل کوئی جواز یا ضرورت نہیں ہے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ کینیڈا ان امریکی اقدامات کو ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن میں اور پہلے سے موجود امریکہ-میکسیکو-کینیڈا تجارتی معاہدے کے تحت چیلنج کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ کینیڈین عوام معقول ہیں اور ہم شائستہ بھی ہیں، لیکن ہم کسی لڑائی سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، خاص طور پر جب ہمارا ملک اور یہاں کے تمام لوگوں کی فلاح و بہبود داؤ پر لگی ہو۔

ٹرمپ نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ کینیڈا کے جوابی محصولات کا اسی سطح کے فوری جوابی محصولات سے جواب دیا جائے گا۔

ٹرمپ نے الزام لگایا ہے کہ کینیڈا مہلک فینٹینیل اوپیئڈ اور اس کے کیمیکل اجزاء کی امریکہ میں آمد کو روکنے کے لیے کافی اقدامات نہیں کر رہا، جس کو جسٹن ٹروڈو نے بالکل بے بنیاد، سراسر غلط اور بلاجواز قرار دیا۔

جسٹن ٹروڈو اور ٹرمپ کے تعلقات، جو کبھی خوشگوار نہیں رہے، حالیہ مہینوں میں مزید بگڑ گئے، جب صدر نے بار بار اس بات کا تذکرہ کیا کہ کینیڈا امریکہ کی 51ویں ریاست بن سکتا ہے اور طنزیہ طور پر جسٹن ٹروڈو کو وزیراعظم کے بجائے گورنر کہہ کر مخاطب کیا۔

ٹرمپ نے کہا کہ وہ امریکہ-میکسیکو-کینیڈا تجارتی معاہدے سے ناخوش ہیں، جو انہوں نے اپنی پہلی مدت میں دستخط کیا تھا۔ جسٹن ٹروڈو نے 2026 میں طے شدہ نظرثانی سے قبل مذاکرات کے امکان کو انتہائی کم قرار دیا۔

جسٹن ٹروڈو نے کہا کہ چونکہ وہ کینیڈین معیشت کو تباہ کرنا چاہتے ہیں، میں نہیں جانتا کہ مذاکرات کو آگے بڑھانا کتنا مناسب ہوگا، خاص طور پر ایسے خراب حالات میں جہاں نیک نیتی کا مکمل فقدان ہے، ٹروڈو نے کینیڈین عوام کو خبردار کیا کہ سخت وقت آنے والا ہے۔

ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ اگر یہ محصولات فوری طور پر ختم نہ کیے گئے تو کینیڈا، جو اپنی کل برآمدات کا 75 فیصد امریکہ کو بھیجتا ہے، شدید کساد بازاری کا شکار ہو جائے گا۔

جسٹن ٹروڈو نے کہا کہ امریکی عوام بھی نقصان اٹھائیں گے، کیونکہ دونوں معیشتیں آپس میں گہری جڑی ہوئی ہیں۔ انہوں نے وال اسٹریٹ جرنل کے ایک جنوری کے اداریے کا حوالہ دیا، جس میں کہا گیا تھا کہ اگر ٹرمپ محصولات لگاتے ہیں تو وہ ”تاریخ کی سب سے احمقانہ تجارتی جنگ“ چھیڑ دیں گے۔

جسٹن ٹروڈو نے کہا کہ مجھے عام طور پر وال اسٹریٹ جرنل سے اتفاق کرنے کی عادت نہیں، لیکن ڈونلڈ، وہ نشاندہی کرتے ہیں کہ اگرچہ تم ایک بہت ذہین شخص ہو، یہ واقعی ایک بہت بے وقوفانہ کام ہے۔ جسٹن ٹروڈو جو حکمران لبرل پارٹی کے اتوار کو نئے رہنما کے انتخاب کے بعد وزیر اعظم کے عہدے سے سبکدوش ہو جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ کینیڈا کی حکومت ایمپلائمنٹ انشورنس کے فوائد کو بڑھا کر اور کاروبار کو براہ راست مدد دے کر مدد کرے گی۔

جسٹن ٹروڈو کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ وزیر خزانہ ڈومینک لی بلانک نے ملک کے وزرائے اعلیٰ کے ساتھ ایک ورچوئل میٹنگ میں بتایا کہ وہ جلد ہی امریکی محصولات کے اثرات کو کم کرنے کے لیے مزدوروں، خاندانوں اور کاروباروں کے لیے ابتدائی امدادی پیکج کا اعلان کریں گے۔

بیان کے مطابق جسٹن ٹروڈو اور وزرائے اعلیٰ نے کینیڈا کے اندر تجارتی رکاوٹوں اور مزدوروں کی نقل و حرکت کو کم کرنے کے طریقوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

الکحل کی فروخت پر پابندی

ٹرمپ کے بے مثال اقدامات تینوں تجارتی شراکت داروں کے تعلقات کو شدید نقصان پہنچانے کا خطرہ رکھتے ہیں۔

جسٹن ٹروڈو نے کہا کہ کینیڈا دیگر غیر محصولاتی اقدامات پر بھی غور کر رہا ہے لیکن اس سوال کا براہ راست جواب نہیں دیا کہ آیا اوٹاوا خام تیل یا پوٹاش کی برآمدات کو محدود کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا بنیادی مقصد ان محصولات کو جلد از جلد ختم کرانا ہے۔

امریکہ-میکسیکو-کینیڈا معاہدہ، جو ٹرمپ نے اپنی پہلی مدت میں بنایا اورجس نے شمالی امریکہ آزاد تجارتی معاہدے کی جگہ لی، تینوں ممالک کے درمیان بغیر محصولات کے تجارت کی اجازت دیتا ہے۔

یہ معاہدہ آٹوز، آٹو پارٹس اور اسٹیل پر مبنی مصنوعات کے لیے پیداواری اصولوں کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی سے متعلق استثنیات کی بھی گنجائش فراہم کرتا ہے۔

کینیڈا کے دو سب سے زیادہ آبادی والے صوبے، کیوبیک اور اونٹاریو، سرکاری طور پر چلنے والے شراب کے اسٹورز سے امریکی شراب ہٹا رہے ہیں۔

اونٹاریو کے وزیر اعلیٰ ڈگ فورڈ نے کہا کہ اگر امریکی محصولات برقرار رہے تو صوبہ نیویارک، مشی گن اور مینیسوٹا کو بجلی کی برآمدات پر بھی 25 فیصد اضافی چارج لگائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یقینی بنانا ہوگا کہ امریکہ کو تکلیف پہنچے۔

کشیدگی اتنی بڑھ چکی ہے کہ کینیڈین اسپورٹس فینز آئس ہاکی کے میچوں میں امریکی ٹیموں پر جملے کس رہے ہیں۔

جسٹن ٹروڈو نے کہا کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم کینیڈین مصنوعات خریدنے کو ترجیح دیں گے اور امریکی بوربن اور دیگر مشہور امریکی مصنوعات کو ترک کر دیں گے۔ اور ہاں، ہم شاید امریکی قومی ترانے پر جملے بازی بھی جاری رکھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ لیکن میں امریکیوں کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ہم آپ کو نہیں بلکہ اس پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں جو ہمیں نقصان پہنچانے کے لیے بنائی گئی ہے۔ ہم ناراض اور مشتعل ہیں … ہم لڑیں گے اور ہم جیتیں گے۔

Comments

200 حروف