غزہ کے جنوب میں واقع خان یونس میں اسرائیلی فائرنگ سے کم از کم دو افراد شہید اور تین زخمی ہوگئے جس کے بعد فلسطینیوں میں یہ خدشہ پیدا ہوگیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ کی مکمل ناکہ بندی کے بعد جنگ بندی مکمل طور پر ختم ہوسکتی ہے۔
اسرائیل اور فلسطینی تنظیم حماس کے درمیان جنگ بندی کا پہلا مرحلہ جو جنوری میں شروع ہوا تھا اختتام ہفتہ پر ختم ہو گیا اور اس بارے میں کوئی معاہدہ نہیں ہوا کہ آگے کیا ہوگا۔
حماس کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کا دوسرا مرحلہ اب شروع ہونا چاہیے جس کے نتیجے میں اسرائیل کا مستقل انخلا اور جنگ کا خاتمہ ہو سکے گا۔ اس کے بجائے اسرائیل نے اپریل تک عارضی توسیع کی پیش کش کی ہے اور حماس غزہ کے مستقبل پر فوری بات چیت کے بغیر فلسطینی قیدیوں کے بدلے مزید یرغمالیوں کو رہا کرے گی۔
بعد ازاں پیر کے روز حماس کے عہدیدار اسامہ حمدان نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں توسیع کے مطالبے سے پیش رفت صفر تک پہنچ رہی ہے۔
اسامہ ہمدان نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا، “ثالثوں اور ضامنوں پر (اسرائیلی وزیر اعظم) نیتن یاہو کو معاہدے تک پہنچنے کی تمام کوششوں کو سبوتاژ کرنے سے روکنے اور معاہدے کو ٹوٹنے سے بچانے کی مکمل ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
اسرائیلی حکومت کے دو عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ثالثوں نے اسرائیل سے اس تعطل کو حل کرنے کے لیے مزید چند دن کا وقت مانگا ہے۔
واشنگٹن میں محکمہ خارجہ کے ایک ترجمان نے پیر کے روز کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے سفیر اسٹیو وٹکوف آنے والے دنوں میں خطے میں واپس آنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ غزہ جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے میں توسیع یا دوسرے مرحلے میں پیش قدمی کا راستہ تلاش کیا جا سکے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ صدر نے واضح کر دیا ہے اور وزیر خارجہ روبیو نے بارہا کہا ہے کہ تمام یرغمالیوں کو فوری طور پر رہا کیا جانا چاہیے اور ان میں امریکی یرغمالی بھی شامل ہیں۔
اسرائیل نے اتوار کے روز خوراک اور ایندھن سمیت تمام رسد پر مکمل ناکہ بندی کر دی ہے۔
مصر میں سامان لے جانے والی سیکڑوں لاریوں کو روک دیا گیا اور انہیں اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ غزہ کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ دکانوں کو فوری طور پر تمام سامان سے خالی کر دیا گیا ہے اور راتوں رات آٹے کی بوری کی قیمت دگنی ہو گئی ہے۔
غزہ کے شمالی کنارے پر جبالیہ کے ایک رہائشی صلاح الحاج حسن نے کہا کہ ’ہمارا کھانا کہاں سے آئے گا؟‘ جہاں خاندان ملبے میں رہنے کے لیے تباہ شدہ گھروں میں واپس آ گئے ہیں۔ ہم مر رہے ہیں اور ہم جنگ نہیں چاہتے۔
Comments