برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے کہا ہے کہ یورپی رہنماؤں نے یوکرین کے لیے ایک امن منصوبہ تیار کرنے پر اتفاق کیا ہے جسے امریکہ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ یہ قدم اس لیے ضروری ہے تاکہ واشنگٹن یوکرین کو سیکیورٹی ضمانتیں فراہم کر سکے، جسے کیف روس کو روکنے کے لیے ناگزیر سمجھتا ہے۔

یہ فیصلہ لندن میں ہونے والے ایک سربراہی اجلاس میں کیا گیا، جو ایک ایسے وقت میں ہوا جب یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے واشنگٹن میں تلخ کلامی ہوئی اور وہ وہاں سے اپنا دورہ مختصر کر کے واپس چلے گئے۔ یورپی رہنماؤں نے زیلنسکی کی بھرپور حمایت کا اظہار کیا اور یوکرین کے لیے مزید اقدامات کرنے کا عزم ظاہر کیا۔

یورپی رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ انہیں اپنے دفاعی اخراجات میں اضافہ کرنا ہوگا تاکہ ٹرمپ کو یقین دلایا جا سکے کہ یورپ اپنی سلامتی کا تحفظ خود کر سکتا ہے۔ یورپی کمیشن کی صدر اُرسلا وان ڈیر لیین نے عندیہ دیا کہ یورپی یونین قرضے سے متعلق سخت قوانین میں نرمی کر سکتی ہے۔

کیئر اسٹارمر نے کہا کہ برطانیہ، یوکرین، فرانس اور کچھ دیگر ممالک مل کر ’’کوالیشن آف دی ولنگ‘‘ بنائیں گے اور ٹرمپ کے سامنے ایک نیا امن منصوبہ پیش کریں گے۔ تاہم، اس منصوبے کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ مجوزہ منصوبہ ایک ماہ کے لیے فضائی اور بحری حملے روکنے پر مبنی ہوگا، البتہ زمینی جنگ جاری رہے گی۔ اگر کوئی وسیع تر معاہدہ ہوتا ہے تو یورپی افواج کو تعینات کیا جا سکتا ہے، لیکن یہ واضح نہیں کہ دیگر ممالک نے اس پر اتفاق کیا ہے یا نہیں۔

زیلنسکی نے اجلاس کے بعد کہا کہ انہیں یورپ کی مکمل حمایت حاصل ہے اور تمام ممالک تعاون کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’یہ امن کے لیے سفارت کاری کا وقت ہے اور یہ ضروری ہے کہ یوکرین، یورپ اور امریکہ ایک ساتھ رہیں۔‘‘

زیلنسکی نے واضح کیا کہ وہ کسی بھی امن معاہدے کے تحت یوکرینی سرزمین سے دستبردار نہیں ہوں گے اور وہ اب بھی امریکہ کے ساتھ معدنی وسائل کے حوالے سے معاہدہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔

انہوں نے تسلیم کیا کہ واشنگٹن میں ٹرمپ کے ساتھ ان کی تلخ گفتگو مثبت نتائج نہیں لا سکی، لیکن انہیں امید ہے کہ وہ ان کے ساتھ تعلقات بحال کر سکتے ہیں، البتہ اس کے لیے بات چیت بند دروازوں کے پیچھے ہونی چاہیے۔

ٹرمپ کے ساتھ زیلنسکی کی تلخ کلامی نے یورپ میں تشویش پیدا کر دی ہے کہ کہیں امریکہ یوکرین سے حمایت واپس لے کر روس کے ساتھ کوئی معاہدہ نہ کر لے۔

یورپی رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ وہ اپنے دفاعی بجٹ میں اضافہ کریں گے تاکہ امریکہ کو قائل کیا جا سکے کہ وہ یوکرین کے لیے سیکیورٹی کی ضمانت دے۔ اُرسلا وان ڈیر لیین نے کہا کہ یورپ کو یوکرین کو ایک ناقابل تسخیر قلعہ بنانا ہوگا تاکہ کوئی بھی دشمن اسے آسانی سے ہڑپ نہ کر سکے۔

ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا کہ امریکہ کو روس کے بجائے اپنے ملک کے مسائل پر توجہ دینی چاہیے، جس میں مہاجرین اور جرائم کے مسائل شامل ہیں۔ انہوں نے یورپ کے ساتھ امریکہ کے موازنے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔

روس نے ٹرمپ کے اس رویے کا خیر مقدم کیا۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا کہ یورپی ممالک جنگ کو طول دینے کے لیے زیلنسکی کی حمایت کر رہے ہیں اور ان کے فوجیوں کو یوکرین میں بھیجنے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔

اسٹارمر نے کہا کہ یورپی رہنماؤں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ کسی بھی امن مذاکرات میں یوکرین کو شامل رکھا جائے اور اس کی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ’یورپ کو زیادہ ذمہ داری اٹھانی ہوگی، لیکن اس کوشش میں امریکی حمایت کا ہونا ناگزیر ہے۔

اس ملاقات کے بعد زیلنسکی نے برطانیہ کے بادشاہ چارلس سے بھی ملاقات کی، جو یوکرین کے لیے یورپی حمایت کے مظاہرے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

Comments

200 حروف