فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے ہفتے کے روز یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بات کی اور جمعے کے روز وائٹ ہاؤس میں امریکہ اور یوکرین کے رہنماؤں کے درمیان جھڑپ کے بعد ایک انٹرویو میں پرسکون رہنے کی اپیل کی۔
فرانسیسی ایوان صدر نے کہا کہ میکرون نے اتوار کو لندن میں یوکرین کے معاملے پر یورپی رہنماؤں کے اجلاس کے موقع پر برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر، یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا اور نیٹو کے سربراہ مارک روٹے سے بھی بات کی تھی۔
جمعے کے روز اوول آفس میں ہونے والے ایک غیر معمولی ملاقات میں ٹرمپ نے یوکرین کی حمایت واپس لینے کی دھمکی دی تھی، جس سے یورپ کے لوگوں کو تشویش ہے کہ جلد بازی میں جنگ بندی سے توسیع پسند روس کی حوصلہ افزائی ہوگی۔
میکرون نے اتوار کے روز متعدد اخبارات کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ’میرے خیال میں ہر کسی کو پرسکون ہونے، احترام اور شکر گزاری کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ ہم ٹھوس طور پر آگے بڑھ سکیں، کیونکہ جو کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے وہ بہت اہم ہے۔‘
میکرون اور کیئر اسٹارمر نے یورپ میں قیادت کی تھی تاکہ ٹرمپ کو جنگ بندی میں جلد بازی نہ کرنے اور یوکرین کو سلامتی کی ضمانت فراہم کرنے پر قائل کیا جاسکے اور انہیں اس ہفتے واشنگٹن میں ہونے والی ملاقاتوں کے دوران یوکرین میں امن فوجیوں کی تعیناتی کا منصوبہ پیش کیا گیا۔
میکرون نے انٹرویو میں کہا کہ زیلینسکی نے انہیں بتایا تھا کہ وہ امریکہ کے ساتھ ”مذاکرات کی بحالی“ کے خواہاں ہیں، جس میں یوکرین کے قدرتی وسائل سے حاصل ہونے والی آمدنی تک امریکہ کو رسائی دینے والا معاہدہ بھی شامل ہے، لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ ٹرمپ نے انہیں فون پر کیا بتایا۔
لا ٹریبیون دیمانچے نے ان کے حوالے سے کہا کہ امریکہ کا مقدر یوکرین کے ساتھ رہنا ہے، مجھے اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ امریکی یہ سمجھیں کہ یوکرین سے امداد واپس لینا ان کے مفاد میں نہیں ہے۔
میکرون نے یہ بھی کہا کہ 6 مارچ کو یورپی یونین کے مجوزہ سربراہی اجلاس میں انہیں امید ہے کہ یورپی یونین کی سطح پر مشترکہ قرضے کے منصوبے کی متفقہ حمایت کی جائے گی تاکہ یورپی دفاع کے لئے ”کئی سو ارب یورو“ جمع کیے جاسکیں۔
Comments