حماس نے چار اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشیں اسرائیل کے حوالے کیں جبکہ وہ اس کے بدلے میں سینکڑوں فلسطینی قیدیوں کی رہائی کا انتظار کر رہے تھے۔ یہ تبادلہ ایک نازک جنگ بندی کے دوران رات کے وقت ہونے والے آخری تبادلے کے طور پر سامنے آیا۔

جنگ بندی 19 جنوری کو نافذ العمل ہوئی تھی اور متعدد مشکلات کے باوجود بڑی حد تک برقرار رہی ہے۔

لیکن اس کا پہلا مرحلہ اس ہفتے ختم ہونے والا ہے اور اس کے اگلے مرحلے کی قسمت، جس کا مقصد جنگ کو ختم کرنا ہے، ابھی تک غیر واضح ہے۔

حماس نے جمعرات کے روز کہا تھا کہ وہ دوسرے مرحلے پر بات چیت شروع کرنے کے لیے تیار ہے اور باقی ماندہ یرغمالیوں کی رہائی کا واحد راستہ جنگ بندی برقرار رکھنا ہے۔

چند دنوں کے تعطل کے بعد، مصری ثالثوں نے بدھ کے روز معاہدے کے پہلے مرحلے میں آخری چار یرغمالیوں کی لاشوں کی حوالگی کو یقینی بنایا، جس کے بدلے میں 620 فلسطینیوں کو رہا کیا جانا تھا، جو یا تو غزہ میں اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں گرفتار کیے گئے تھے یا اسرائیل میں قید تھے۔

اسرائیل نے ہفتے کے روز قیدیوں کو رہا کرنے سے انکار کر دیا تھا جب حماس نے ایک تقریب میں چھ یرغمالیوں کو حوالے کیا تھا۔

 ۔
۔

حماس غزہ میں ایک ہجوم کے سامنے زندہ یرغمالیوں اور لاشیں لے جانے والے تابوت کی نمائش کر رہی تھی، جس پر اقوام متحدہ سمیت شدید تنقید کی گئی تھی۔

حتمی حوالگی میں ایسی تقریب شامل نہیں تھی۔

اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے دفتر نے جمعرات کی علی الصبح بتایا کہ اسرائیل کو چار یرغمالیوں کی باقیات لے جانے والے تابوت موصول ہوئے ہیں۔

حماس نے اس سے قبل لاشوں کی شناخت ساچی عدن، اتزاک ایلگارات، احد یہالومی اور شلومو منٹزور کے طور پر کی تھی، جنہیں 7 اکتوبر 2023 کو غزہ کے قریب ان کے گھروں سے اغوا کیا گیا تھا۔

نیتن یاہو کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی علاقے میں لاشوں کی ابتدائی شناخت کی جا رہی ہے اور یہ عمل مکمل ہونے کے بعد یرغمالیوں کے اہل خانہ کو باضابطہ نوٹس دیا جائے گا۔

حماس کی جانب سے شیری بیبس کی بجائے ایک نامعلوم فلسطینی خاتون کی باقیات کے حوالے کیے جانے کے بعد بھی اس معاہدے کو روک دیا گیا تھا۔

طبی عملے کا کہنا ہے کہ نامعلوم خاتون کی لاش کو جمعرات کے روز غزہ کے ایک اسپتال بھیج دیا گیا ہے۔

اسرائیلی وزارت صحت کے مطابق اسرائیل واپس کی جانے والی آخری چار لاشوں کی موت کی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے مکمل فرانزک جانچ بعد میں کی جائے گی۔

اسرائیلی حکام کے مطابق غزہ میں تقریبا 30 یرغمالی ہلاک ہو چکے ہیں۔

رہائی پانے والے فلسطینی قیدی

حماس ذرائع کے مطابق رہا کیے جانے والے فلسطینی قیدیوں میں 445 مرد، 24 خواتین اور نابالغ افراد شامل ہیں جو غزہ میں گرفتار کیے گئے تھے، نیز 151 ایسے قیدی بھی شامل ہیں جو اسرائیلیوں پر مہلک حملوں کے جرم میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے تھے۔

براہِ راست مناظر میں دکھایا گیا کہ اسرائیل کے عوفر جیل سے فلسطینی قیدیوں کو لے جانے والی ایک بس مقبوضہ مغربی کنارے میں رام اللہ پہنچی۔

بس سے اترنے والے قیدیوں کا استقبال سینکڑوں افراد نے کیا، کچھ مرد جو سبز جیکٹس اور کفایہ پہنے ہوئے تھے، ہجوم نے خوشی سے کندھوں پر اٹھا لیا۔

 ۔
۔

42 سالہ رہا شدہ قیدی بلال یاسین نے رائٹرز کو بتایا کہ وہ 20 سال تک اسرائیلی حراست میں رہا۔ مغربی کنارے سے تعلق رکھنے والے یاسین نے کہا کہ وہ پورے وقت جبر اور بدترین حالات کا سامنا کرتا رہا۔

ہماری قربانیاں اور قید رائیگاں نہیں گئیں، یاسین نے کہا۔ ہمیں (فلسطینی) مزاحمت پر مکمل اعتماد تھا۔

حماس ذرائع اور مصری میڈیا کے مطابق تقریباً 100 مزید فلسطینی قیدیوں کو مصر کے حوالے کیا گیا، جہاں وہ اس وقت تک قیام کریں گے جب تک کہ کوئی اور ملک انہیں قبول نہیں کرتا۔

جمعرات کی صبح جنوبی غزہ کے خان یونس میں واقع یورپی اسپتال میں ایمبولینسیں پہنچیں، جہاں رہا شدہ فلسطینیوں کا طبی معائنہ کیا جائے گا۔

حماس کے مطابق، مجموعی طور پر 580 قیدیوں اور حراستی افراد کو غزہ میں رہا کیا جائے گا، اور توقع ہے کہ ریڈ کراس کی نگرانی میں بسیں آئندہ چند گھنٹوں میں پہنچ جائیں گی۔

جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں مجموعی طور پر 33 اسرائیلی یرغمالیوں کے بدلے تقریباً 2,000 فلسطینی قیدیوں اور حراستی افراد کی رہائی، غزہ کے کچھ علاقوں سے اسرائیلی فوج کا انخلا اور امداد کی آمد شامل تھی۔

حماس نے غزہ سے اغوا کیے گئے کم عمر اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشیں بھی حوالے کر دی ہیں۔

تاہم، چونکہ 42 روزہ جنگ بندی ہفتے کے روز ختم ہونے والی ہے، اس لیے یہ واضح نہیں کہ کیا اس میں توسیع ہو گی، جس سے باقی 59 یرغمالیوں کی رہائی ممکن ہو سکے، یا معاہدے کے دوسرے مرحلے پر مذاکرات کا آغاز کیا جائے گا۔

Comments

200 حروف