BR100 Decreased By (-0.82%)
BR30 Decreased By (-1.16%)
KSE100 Decreased By (-0.63%)
KSE30 Decreased By (-0.71%)
BAFL 58.70 Increased By ▲ 0.03 (0.05%)
BIPL 26.96 Decreased By ▼ -0.12 (-0.44%)
BOP 33.72 Decreased By ▼ -0.20 (-0.59%)
CNERGY 11.02 Decreased By ▼ -0.08 (-0.72%)
DFML 18.10 Increased By ▲ 0.04 (0.22%)
DGKC 212.11 Decreased By ▼ -3.72 (-1.72%)
FABL 100.31 Decreased By ▼ -0.38 (-0.38%)
FCCL 55.15 Decreased By ▼ -0.75 (-1.34%)
FFL 16.20 Increased By ▲ 0.12 (0.75%)
GGL 23.82 Decreased By ▼ -0.08 (-0.33%)
HBL 307.15 Decreased By ▼ -2.09 (-0.68%)
HUBC 219.00 Decreased By ▼ -0.89 (-0.4%)
HUMNL 10.70 Decreased By ▼ -0.03 (-0.28%)
KEL 7.23 Decreased By ▼ -0.07 (-0.96%)
LOTCHEM 26.88 Decreased By ▼ -0.41 (-1.5%)
MLCF 96.12 Decreased By ▼ -1.33 (-1.36%)
OGDC 313.88 Decreased By ▼ -5.21 (-1.63%)
PAEL 42.00 Decreased By ▼ -0.52 (-1.22%)
PIBTL 16.72 Decreased By ▼ -0.36 (-2.11%)
PIOC 266.98 Decreased By ▼ -6.00 (-2.2%)
PPL 217.85 Decreased By ▼ -3.47 (-1.57%)
PRL 62.84 Decreased By ▼ -0.58 (-0.91%)
SNGP 106.16 Increased By ▲ 0.28 (0.26%)
SSGC 26.65 Increased By ▲ 0.72 (2.78%)
TELE 8.46 No Change ▼ 0.00 (0%)
TPLP 14.91 Increased By ▲ 0.20 (1.36%)
TRG 60.55 Decreased By ▼ -0.26 (-0.43%)
UNITY 10.16 Increased By ▲ 0.15 (1.5%)
WTL 1.22 Increased By ▲ 0.01 (0.83%)
پاکستان

پاکستان اور ازبکستان کا باہمی تجارت 2 ارب ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق

  • وزیراعظم شہباز شریف سے ازبکستان کے صدر شوکت میرزییوئیف کی ملاقات
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان اور ازبکستان نے باہمی تجارت کو 2 ارب ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ازبکستان کے صدر شوکت میرزییوئیف نے کہا کہ ملاقات کے دوران مختلف شعبوں پر اتفاق کیا گیا، باہمی تجارتی حجم 400 ملین ڈالر سے تجاوز کرچکا ہے جسے 2 ارب ڈالر تک بڑھانے کا منصوبہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جدید ریاستِ پاکستان ہمارا قابلِ اعتماد شراکت دار اور ایک امید افزا اتحادی ہے، جس کی بین الاقوامی ساکھ مسلسل بہتر ہو رہی ہے۔

موجودہ عالمی چیلنجز کے باوجود معزز وزیراعظم امن و استحکام کو یقینی بنانے، عوام کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے اور معاشی ترقی کو تیز کرنے کے لیے شاندار کام کررہے ہیں۔

قبل ازیں وزیرِاعظم شہباز شریف کا بدھ کو ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند کانگریس سینٹر میں گارڈ آف آنر کے ساتھ استقبال کیا گیا۔

ازبکستان کے صدر شوکت میرزییوئیف نے وزیرِاعظم کا استقبال کیا، اس موقع پر پاکستان اور ازبکستان کے قومی ترانے بھی بجائے گئے۔

وزیرِاعظم کی آمد کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان دو طرفہ ملاقات ہوئی۔

مذاکرات میں علاقائی روابط، تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، دفاع، سلامتی، علاقائی استحکام اور تعلیم میں تعاون بڑھانے پر توجہ دی گئی۔

پاکستان اور ازبکستان کے درمیان مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط

پاکستان اور ازبکستان نے مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے کے لیے کئی مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط کیے۔

ان میں تاشقند اور لاہور کے درمیان مفاہمتی یادداشت، خبر رساں ایجنسیوں کے مابین تعاون کا معاہدہ، نوجوانوں کے امور پر بین الادارتی معاہدہ، اور سائنس، ٹیکنالوجی اور جدت کے شعبے میں تعاون کا معاہدہ شامل ہیں۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق دونوں ممالک نے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر، فوجی انٹیلیجنس،داخلی امور، پیشہ ورانہ و تکنیکی تربیت اور سفارت کاروں کی تربیت کے شعبوں میں بھی معاہدوں پر دستخط کیے۔

یاد رہے کہ وزیراعظم شہبازشریف منگل کو ازبکستان پہنچے تھے جہاں انہوں نے اقتصادی سفارتکاری پر زور دیتے ہوئے تجارت، توانائی اور دفاعی تعلقات پر بات چیت کی۔

دورے پر وزیراعظم کے ہمراہ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر تجارت جام کمال خان، وزیر سرمایہ کاری و نجکاری عبدالعلیم خان، وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ اور معاون خصوصی طارق فاطمی بھی موجود ہیں۔

وزیرِاعظم شہباز شریف کا تاشقند انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچنے پر ازبکستان کے وزیرِاعظم عبداللہ اریپوف، وزیرِخارجہ بختیار سعیدوف، تاشقند کے میئر شوکت عمرزاکوف، ازبکستان میں پاکستان کے سفیر احمد فاروق، پاکستان میں ازبکستان کے سفیر علیشیر تختیف سمیت اعلیٰ سفارتی و حکومتی حکام نے پرتپاک استقبال کیا۔

وزیرِاعظم کا تاشقند کا یہ دورہ باکو کے دو روزہ سرکاری دورے کے بعد ہو رہا ہے،جہاں پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان تجارت، توانائی، سیاحت اور تعلیم کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کیلئے متعدد معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔

پاکستان اپنی حکمتِ عملی اہمیت کو بروئے کار لاتے ہوئے تجارتی اور ٹرانزٹ حب کے طور پر وسطی ایشیائی ریاستوں کو عالمی منڈی سے جوڑنے کے لیے کوشاں ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال سے پاکستان اور وسطی ایشیائی ممالک کے درمیان دوروں، سرمایہ کاری مذاکرات اور دیگر اقتصادی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

Comments

Comments are closed.