حالیہ دنوں میں متعدد ذرائع سے جاری کی گئی معلومات نے پاکستان میں بیرونی مالی معاونت کے بہاؤ میں بعض تشویشناک رجحانات کو اجاگر کیا ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اپنی ویب سائٹ پر جولائی 2024 سے جنوری 2025 تک کے ادائیگیوں کے توازن کے اعداد و شمار فراہم کیے ہیں۔
اسی دوران، اقتصادی امور کی وزارت نے 25-2024 کے دوران غیر ملکی امداد کے بیرونی اخراجات سے متعلق دسمبر 2024 اور جنوری 2025 تک کی تفصیلات جاری کی ہیں۔
وزارتِ خزانہ نے 25-2024 کی پہلی ششماہی میں اپنے مالیاتی امور کے ساتھ ساتھ صوبائی حکومتوں کے مالیاتی امور پر روشنی ڈالی ہے، جس میں بجٹ خسارے کے خالص بیرونی مالی معاونت کے حجم کی بھی وضاحت کی گئی ہے۔
ان تینوں ذرائع نے واضح طور پر پاکستان میں 25-2024 کی پہلی ششماہی کے دوران عوامی اور نجی دونوں شعبوں میں بیرونی مالی معاونت کے بہاؤ میں نمایاں کمی کو ظاہر کیا ہے۔ یہ کمی اتنی زیادہ رہی کہ قرضوں کی ادائیگی کے بعد مجموعی طور پر خالص مالی معاونت منفی رہی۔
یہ تشویش اس لیے بڑھ رہی ہے کیونکہ پاکستان ستمبر 2024 سے آئی ایم ایف کے تین سالہ 7 ارب ڈالر کے ”ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی“ کے تحت کام کر رہا ہے۔
آئی ایم ایف اسٹاف رپورٹ میں 25-2024 کے دوران عوامی اور نجی دونوں شعبوں میں زیادہ خالص بیرونی مالی معاونت کی توقع ظاہر کی گئی تھی۔ امید تھی کہ پورے مالی سال میں، آئی ایم ایف کے قرضوں سمیت، خالص مالی معاونت 3,376 ملین ڈالر ہوگی، جس کے نتیجے میں پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی اتنا ہی اضافہ ہوگا۔
وزارتِ اقتصادی امور کے مطابق، دسمبر 2024 تک بیرونی امداد کے انفلوز کا حجم 3,601 ملین ڈالر تھا۔ یہ حجم 10,291 ملین ڈالر کے سالانہ ہدف کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ اس طرح، صرف 35 فیصد ہدف پورا ہو سکا ہے۔ جنوری 2025 کے مالی انفلوز کو شامل کرنے کے باوجود، فروری سے جون تک سالانہ ہدف کا تقریباً 60 فیصد ابھی حاصل ہونا باقی ہے۔
سال 24-2023 میں پاکستان آئی ایم ایف کے ایک سالہ اسٹینڈ بائی پروگرام کے تحت رہا۔ اس دوران پہلے چھ ماہ میں بیرونی مالی معاونت کے انفلوز 5,459 ملین ڈالر رہا، جو25-2024 کی اسی مدت کے مقابلے میں 52 فیصد زیادہ تھا۔
ملٹی لیٹرل ایجنسیز (کثیر الجہتی اداروں) سے حاصل کردہ قرضے 1,563 ملین ڈالر رہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 21 فیصد کم ہیں۔ خاص طور پر، عالمی بینک نے 25-2024 میں پاکستان سے 2,076 ملین ڈالر کے قرضوں کا وعدہ کیا تھا، مگر پہلے چھ ماہ میں صرف 24 فیصد ہدف حاصل کیا گیا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اتنے کم مالی انفلوز کے باوجود عالمی بینک آئندہ 10 سالوں میں پاکستان کو سالانہ 4 ارب ڈالر دینے پر رضامند ہے۔
کچھ سال قبل تک پاکستان کو دو طرفہ مالی معاونت کے تحت سالانہ 4 ارب ڈالر سے زائد ملتے تھے، مگر 25-2024 میں چین، سعودی عرب اور دیگر ممالک سے متوقع مالی معاونت کا ہدف صرف 471 ملین ڈالر رہ گیا ہے، جس میں سے 66 فیصد دسمبر 2024 تک موصول ہو چکا ہے۔
نجی قرضوں کی آمدن تقریباً مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔ پاکستانی سکوک/یورو بانڈز کی خریداری یا بین الاقوامی کمرشل بینک قرضوں کی مد میں متوقع ہدف 1 ارب ڈالر اور 3.8 ارب ڈالر تھا، مگر دسمبر 2024 تک صرف 500 ملین ڈالر موصول ہوئے، جو کہ انتہائی کم ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام کی موجودگی کے باوجود نجی شعبے میں پاکستان کے لیے سرمایہ کاری کا خطرہ کم نہیں ہوا۔
وزارت اقتصادی امور کے مطابق، 25-2024 کے پہلے سات ماہ میں بیرونی مالی معاونت 3,601 ملین ڈالر رہی، جو سالانہ ہدف کا صرف 35 فیصد بنتا ہے اور 24-2023 کی اسی مدت کے مقابلے میں 34 فیصد کم ہے۔
یہ بحران انتہائی منفی اثرات مرتب کر چکا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جولائی 2024 سے جنوری 2025 تک کی بیرونی ادائیگیوں کے توازن کی سمری یہ ظاہر کرتی ہے کہ بیرونی مالی معاونت کے خالص انفلوز منفی رہے ہیں۔ حکومتی اکاؤنٹ میں موصول ہونے والی رقم 3,385 ملین امریکی ڈالر رہی، جبکہ بیرونی قرضوں کی ادائیگی 3,712 ملین امریکی ڈالر رہی۔ اس کے نتیجے میں خالص انفلوز منفی 327 ملین امریکی ڈالر رہے۔
چنانچہ، جولائی سے نومبر کے دوران اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہو رہا تھا، مگر اس کے بعد یہ گراوٹ کا شکار ہو گئے۔ 24 نومبر سے وسط فروری 2025 تک یہ ذخائر 836 ملین امریکی ڈالر کم ہو چکے ہیں۔ 15 فروری 2025 تک یہ 11,201 ملین امریکی ڈالر کی سطح پر آ گئے، جو بمشکل دو ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں۔
آئی ایم ایف پروگرام کے تحت زرمبادلہ کے ذخائر کی کم از کم حد ایک مقداری کارکردگی کا معیار ہے۔ دسمبر کے آخر تک یہ حد 12,050 ملین امریکی ڈالر مقرر تھی، مگر اصل سطح قدرے کم یعنی 11,732 ملین امریکی ڈالر رہی۔ صورتحال مزید خراب ہو چکی ہے اور 2025 کے پہلے چھ ہفتوں میں ذخائر مزید 530 ملین امریکی ڈالر کم ہو چکے ہیں۔
وزارت خزانہ کی مالیاتی رپورٹ بھی 25-2024 کی پہلی ششماہی میں بیرونی مالی معاونت کی پوزیشن میں نمایاں بگاڑ کی نشاندہی کرتی ہے۔ بیرونی مالی معاونت منفی 79 ارب روپے رہی، جس کا مطلب یہ ہے کہ قرضوں کی ادائیگی نئی آمدنی سے زیادہ رہی۔
سال 24-2023 کی پہلی ششماہی میں صورتحال اس سے کہیں بہتر تھی، جب خالص مالی معاونت 608 ارب روپے رہی، جو تقریباً 2.4 ارب امریکی ڈالر کے مساوی تھی۔
بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت ہونے کے باوجود پاکستان کو بیرونی مالی معاونت میں اتنی بڑی کمی کا سامنا کیوں ہے؟ کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ اسٹرکچرل اصلاحات اور پالیسیوں پر مناسب عمل درآمد نہیں کر رہا؟ یا پھر ملک کی سیکیورٹی اور سیاسی صورتحال سے متعلق منفی تاثرات بھی اس میں شامل ہیں؟
آئی ایم ایف پروگرام کا پہلا جائزہ ممکنہ طور پر مارچ کے اوائل میں شروع ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ آیا آئی ایم ایف مشن بیرونی مالی معاونت میں اس بڑی کمی اور زرمبادلہ کے ذخائر پر پڑنے والے دباؤ پر کتنا تحفظات ظاہر کرے گا؟ صورتحال اس سے بھی بدتر ہو سکتی تھی اگر اسٹیٹ بینک پہلے سے برآمدات کی آمدن اور ترسیلات زر کا بندوبست نہ کرتا۔
سری لنکا کا آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات طے کرنے کا تجربہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ اگر کسی ملک کو مالی خسارے کا سامنا ہو تو اسے موجودہ قرض دہندگان سے قرضوں کی ری پروفائلنگ یا تنظیم نو کی درخواست کرنی پڑتی ہے۔
کیا پاکستان سے بھی بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں میں کمی کے لیے اسی طرح کے اقدامات کا مطالبہ کیا جائے گا؟ چین پاکستان کا سب سے بڑا دو طرفہ قرض دہندہ ہے، اور ممکن ہے کہ آئی ایم ایف پاکستان سے کہے کہ وہ چینی قرضوں کی ادائیگی کے لیے کسی قسم کی ری پروفائلنگ کے لیے بات چیت کرے۔
مجموعی طور پر، سعودی عرب اور چین کی جانب سے اپنے ذخائر کو رول اوور کرنے پر شکریہ ادا کیا جانا چاہیے۔ تاہم، بیرونی مالی معاونت کی پوزیشن اب بھی نازک بنی ہوئی ہے۔ امید کی جا سکتی ہے کہ آئی ایم ایف کے پہلے جائزے کی کامیاب تکمیل کے بعد پاکستان میں بیرونی مالی معاونت کے انفلوز میں بہتری آئے گی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025
Comments